انوارالعلوم (جلد 1) — Page 52
۔کے لئے یہ جواب لکھ دیئے ہیں مگر اصل میں ان کی کوئی اتنی بڑی ضرورت بھی نہ تھی کیونکہ اہل ہنود کے پاس ناسخ کی کوئی دلیل نہیں ہے اور پر میشور نے بتایا نہیں کہ فلاں فلاں گناہ کے بدلے فلاں جون جھگتنی پڑے گی۔ان کے نبیوں نے بھی ظاہر نہیں کیا کہ ہم پہلے فلاں جون میں تھے اوراب فلاں جو نیں بھگتیں گے پھر عقل سلیم باور نہیں کرتی۔اب ان کا صرف دعویٰ ہی دعویٰ رہ جاتا ہےکہ انسان تناسخ کے پھیر میں آکر جو نیں بھگتے گا۔ہم کہتے ہیں کہ نہیں بھگتے گا ان کے پاس دلیل کیا ہےاگر ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ایسا ہو گا تو ہمارا دعوی ہے کہ نہیں ہو گا۔اگر ان کے پاس دلیل کوئی نہیں تو ہمارے پاس نہ ہونے کی دلیلیں ہیں۔جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں۔ہم نے اس مضمون میں بڑی بڑی باتیں غلط ثابت کر کے دکھائی ہیں٭ اور اب صاف ظاہر ہے کہ ہندوؤں کا خداتو اس قابل نہیں کہ ہم اس سے محبت کر سکیں کیونکہ نہ ہماری پکار کا جواب دیتا ہے نہ ہم پر رحم کرتا ہے اور باو جود اس سے محبت کرنے کے وہ الٹاہم کو تناسخ کسے لایعنی پھیر میں ڈالتا ہے۔اب ہم آریہ مت کو لیتے ہیں۔یہ ایک نیا فرقہ ہنود میں نکلا ہے مگراپنا بہت سا پہلو بدل کر دنیا کےسامنے پیش ہوا ہے اس فرقے پر نظر ڈالنے سے پہلے ہم اتنا کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس کے متعلق کچھ لکھنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ اس فرقے کے بانی اور اس کے چیلوں نے جو نمونہ دنیا کو دکھایا ہےوہ سخت ہی قابل مذمت ہے اس فرقے کا ظہور چالیس پچاس برس کے اند ر کاہی ہے اور اس قلیل عرصہ میں بھی اس کے پیروان نے جس قدر لوگوں کا دل دکھایا ہے اس کے بیان کرنے کی کوئی حاجت نہیں کہ جب بات شروع کرتے ہیں تو پہلے اس کو گالیوں سے مزین کر لیتے ہیں۔لڑائی جھگڑااور فساد ان کے وعظوں میں اکثر ہوتا ہے کوئی بزرگ دنیا میں نہیں گذرا ہو گا کہ جس کی توہین نہ کی ہو۔آدمؑ کو گالیاں حضرت ابراہیمؑ کو تبرے،موسیٰؑ کی توہین، عیسیٰؑ کی مذمت، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے نبی کریمﷺ کہ جن کے اخلاق کا نمونہ کسی نے دکھایا نہ دکھا سکتا ہے ان سےدشمنی کرنا ان کے نزدیک عین ثواب کا کام ہے اور نیکی کا جزو اعظم ہے اور پھر یہی نہیں باوا نانک صاحبؒ کہ جن کو تمام مذاہب والے نیک کہتے ہیں اور ان کو عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں ان کی نسبت بھی سخت و ست الفاظ یہ لوگ زبان پر لاتے ہیں مگر اس بات کے جواب میں یہ لوگ تہذیب کو بالائے طاق رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم اپنے مخالفین کو گالیاں کیوں نہ دیں جبکہ ہمارا ایمان ہے ٭ ہندو لوگ بھی اس بات کے قائل نہیں کہ ان میں بھی کوئی اور داخل ہو سکتا ہے بلکہ ان کے خیال میں بھی یہودیوں کی طرح نجات اورمذہب والوں پر بلکہ اور قوموں پر حرام ہے اور اگر ان میں کوئی داخل ہونا بھی چاہے تو بھی ناممکن ہے اور قطعی طور سے نجات کا دروازہ اس کے لئے بند ہے۔