انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 44

ان کو نہ بتایا۔اس دنیاوی زندگی کے لئے جو کہ چند روزہ ہے ہر طرح کے آسائش کے سامان ان کے لئے مہیا کئے گئے مگر اس دائمی زندگی کے لئے اور اس دائمی عیش کیلئے جو کہ مرنے کے بعد انسان کو مل سکتا ہے کوئی طریقہ یا قاعدہ مقرر نہ کیاگیا اور انسان کو وحشی جانور کی طرح زمین پر چھوڑ دیا کہ زمین میں پھرے اور سوائے کھانے پینےکے اور کسی کام سے سروکار نہ رکھے۔مگر چونکہ ہندوؤں کا یہ عقیدہ ہے کہ پرمیشور ظالم نہیں اس لئے یہ ماننا پڑے گا کہ ان لوگوں کے لئے بھی ہدایت کی کوئی راہ مقرر کی گئی تھی پس ہم ہی ثابت کرناچاہتے تھے اور جب یہ ثابت ہوا تو معلوم ہوا کہ وید سے پہلے بھی کوئی کتاب تھی جس سے دنیا کی رہنمائی کی جاتی تھی۔پس ہندووں کا یہ عقیدہ کہ پرمیشور ایک ہی دفعہ بولا اور اس کی طرف سےایک ہی کتاب ہے یعنی وید خود ان کے اپنے عقیدہ کی رو سے باطل ٹهہرتاہے۔پھر اگر یہ کہا جائے کہ پرمیشور پہلے تو بولتا تھا لیکن و ید چونکہ مکمل کتاب تھی اس نے اسے پھربولنا اور کسی کو اپنے کلام سے مستفیض کرنا مناسب نہ سمجھا کیونکہ خدا کو ئی لغو بات تو کرتا ہی نہیں ہیں جب ضرورت نہ رہی تو اس نے کلام کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا۔مگر یہ بات بھی کچھ زیادہ وقعت نہیں رکھتی کیونکہ ہم پہلے ثابت کر چکے ہیں کہ وید کی اصلاح کی ضرورت ہوئی اور اس لئے منو کادھرم شاستر بنایا گیا۔اور بفرض محال ضرورت بھی نہ پڑی سہی تو بھی تو ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کلام نہ کرے اور چپ ہو کر بیٹھ جائے جب ایک وقت بولتا تھا تو اب کیوں نہیں بولتا۔مانا کہ تعلیم پوری ہو گئی مگر ایک عاشق را نا اسی فکر میں رہتا ہے کہ کسی طرح اپنے معشوق یا محبوب سےکلام کرے اس کا بھی تو کچھ حق ہے کہ وہ اس تڑپ کو دور کرنے کا جو کہ اس کے دل میں بار بار پیداہوتی ہے کوئی ذریعہ حاصل کرے پس اگر کچھ نہیں تو اس بے قرار کو ہی جو کہ پرمیشور کے بدلہ اپنامال اسباب جان اور عزت و آبرو تک قربان کر کے جنگل بہ جنگل پھر رہا ہے اپنی آواز سنایا کرے گاکہ اس کے دل کو تسلی ہو اور وہ اس محبت میں جو کہ خالص اسی کے ساتھ رکھتا ہے اور بھی ترقی کرے اور نہ صرف یہی بلکہ دوسرے لوگوں کی تسلی کا بھی باعث ہو کیونکہ جب لوگ دیکھیں گے کہ خدا تعالیٰ ایک آدمی سے کلام کرتا ہے تو ان کے دل میں اس کی ہستی کا کامل یقین ہو جائے گا اوروہ خود بھی کوشش کریں گے کہ ہم بھی اس آدمی کی طرح خدا تعالیٰ سے محبت کر کے یہ رتبہ حاصل کریں پس یہ بات نہ صرف ایک بیقرار محبت کی تسلی کا باعث ہوگی بلکہ لوگوں کی ترقی ایمان اور خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کی خواہش کا ذریعہ بنے گی جس سے کہ