انوارالعلوم (جلد 1) — Page 43
کے طور پر یہاں چند منتر نقل کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوپائے گا کہ در حقیقت وید میں کیا ہے اور کس زمانہ کا ہے۔رگ وید انو واک سوکت میں اس طرح لکھا ہے کہ’’ ہم تیری جو ہمارا دوست ہے اور جسم کو سب فوقیت دیتے ہیں اور سب بلاتے ہیں منت کرتے ہیں تاکہ تواے گھروں کی حفاظت کرنے والے اپنے پوجاریوں پر مہربان ہو" پھر آگے چل کر اسی میں ہے کہ ’’پس اے اندر جو ہماری بہتری میں راضی ہوتا ہے ایسا کر کہ ہمیں خوراک با فراط ملے اور مضبوط اور بہت دودھ دینے والی گائیں ہمارے ہاتھ آویں جن کے باعث سے ہمیں خوشی نصیب ہو“ پھر انوواک بارہ سوکت نو میں ہے ’’ایسا ہو کہ اگنی تیرے دولت مند پجاری بہت خوراک حاصل کریں ایسا ہو کہ وہ ہد بادان جو تیری مہما کرتے ہیں اور تجھے جماتے ہیں ان کی عمر دراز ہو ایسا ہوکہ ہم لڑائیوں میں اپنے دشمنوں سے لوٹ حاصل کریں اور دیوتا کا بھاگ انہیں نذر کریں" ان تین منتروں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کس زمانہ کا لکھا ہوا ہے۔گائیوں کی زیادتی کی دعا گھروں کی حفاظت کی دعا عمروں کی ترقی کی دعا اور دشمن پرفتح پانے کی دعا صاف ظاہر کرتی ہے کہ اس وقت کا لکھا ہوا ہے جبکہ آریہ ہندو وسط ایشیا کو چھوڑ کر ہندوستان میں آئے تھے اور یہاں کےاصل باشندوں سے ان کی جنگیں رہتی تھیں جو باشندے کہ اب تک بھی کہیں کہیں ہندوستان میں موجود ہیں۔اور پھر منو کے دھرم شاستر میں جو قوانین مقرر کئے گئے ہیں کہ اس طرح ہمیں رہناچاہئے اور ہمارے فلاں فلاں قوم سے یہ بہ حقوق ہونے چاہیں صاف ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت تک ہندوؤں میں سوشل قانون نہ تھے جن کے بغیر کوئی فاتح طاقت یا حاکم قوم کبھی رہ ہی نہیں سکتی اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آریہ ہندوؤں کا زمانہ یا وید کا زمانہ منو کے قریب قریب کا زمانہ ہی ہے پس اس طرح بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وید سب سے پہلے یا ازلی کتاب نہیں ہے بلکہ کئی کتابوں کے بعد کی ہے اور ایک محدود زمانہ رکھتی ہے پس مدعی کایہ دعوٰی کہ یہ سب سے پہلی کتاب ہے اوراس کے بعد الہام کی کوئی حاجت نہیں بالکل غلط ٹھہر تا ہے۔پہلی کتاب تو اس لئے نہیں کہ اسزمانے سے پہلے جبکہ وید کا دنیا میں نزول ہٹوایا یہ کہو کہ وید لکھا گیا ہے کئی اور قومیں اور نسلیں بڑی بڑی شان و شوکت کے ساتھ حکومت کر چکی ہیں۔اور یہ ضروری ہے کہ وہ کسی مذہب کی پابند ہوں کیونکہ ان کے لئے بھی پر میشر نے کوئی طریقہ تو ہدایت اور رہنمائی کا رکھا ہی ہو گا اور اگر ان کی رہنمائی کے لئے کوئی کتاب یا صحیفہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا تھا تو اس طرح خداسخت ظالم ثابت ہوتا ہے کہ جس نے باوجود اس کے کہ ایک گروہ کو پید اکیا زبان دی طاقت دی اور دنیاپر اختیار دیا مگر وہ راستہ جو اس کی طرف رہنمائی کر تا تھا