انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 654 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 654

انوار العلوم جلدا ۶۵ تقریر ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء لیکن اگر ارادہ بد ہو تو وہ خطرناک ہو جاتا ہے ۔ دیکھو نماز کیسی اعلیٰ چیز ہے ۔ مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاوُونَ (الماعون : ۵ - ۷) وه نمازیں پڑھتے ہیں مگر اس نماز میں کوئی مغز اور حقیقت نہیں۔ لوگ دیکھتے ہیں کہ زید یا بکر نماز پڑھتا ہے۔ لیکن چونکہ اسکی غرض اس نماز میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ وہ لوگوں کو دکھا رہا ہے۔ اور ریاء ہے اس لئے جب اس میں ریاء شامل ہو گیا تو وہ پاک اور قرب الہی کا ذریعہ ہونے کی بجائے لعنت کا موجب ہو جاتی ہے۔ مجھے یہ نکتہ قرآن مجید کے ابتداء میں خوب معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے پہلے اعوذ پڑھنا چاہئے پھر ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ ہے۔ بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کے بعد الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ شروع ہوتی ہے۔ پھر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ کے بعد الم ذَلِكَ الْكِتب شروع ہوتا ہے اب غور کرو کہ قرآن مجید پڑھنے سے پہلے اعوذ کا جو حکم دیا گیا اور ہر سورۃ سے پہلے بسم اللہ رکھی تو کیا نعوذ باللہ قرآن مجید میں کوئی شیطانی کام تھا۔ اور شیطانی دخل تھا۔ جو یہ تاکید فرمائی ؟ اس میں شیطانی دخل نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک نیک کام میں نیک ارادہ شامل نہ ہو تو وہ برا اور خطرناک ہو جاتا ہے اس لئے ارادہ کی اصلاح اور پاکیزگی کے لئے یہ حکم دیا کہ قرآن مجید کے پڑھنے سے پہلے اٹھو پڑھو۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شیطانی وسوسوں سے محفوظ رکھے اور نیکی کی توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل اور اعانت کے سوا نہیں ملتی اس لئے بسم اللہ کو رکھا جس میں استعانت ہے پس اوز کا حکم دیا اور بسم اللہ کو رکھا تا کہ مؤمنین نیت صاف کریں ایسا نہ ہو کہ بدار ادہ تباہ و بلاک کر دے۔ بہت سے لوگ ہیں جن کے لئے ایک آیت رحم و برکت کا موجب ہو جاتی ہے اور بہتوں کے لئے وہی آیت ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے۔ خدا نے فرمایا۔ اعوذ پڑھو یعنی اللہ تعالی کی پناہ مانگو۔ اور بسم اللہ میں مدد مانگنے کی تعلیم دی۔ غرض کوئی کام کتنا ہی بڑا اور اعلیٰ اور پاک کیوں نہ ہو ۔ جب تک اس میں نیک نیتی اور اخلاص نہ ہو اندیشہ ہے کہ وہ قرب الہی سے دور نہ پھینک دے ۔ اب جو عظیم الشان امانت اور بوجھ ہم پر پڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور توفیق کے بدوں ہم اس سے عہدہ برآنہیں ہو سکتے۔ اس لئے میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں۔ کہ جس قدر فرصت ملے۔ بہتر ہے ہم خدا کے حضور دعائیں کریں اور عاجزانہ التماس کریں کہ مولی کریم ! تو ہی سچا راستہ دکھا نا کہ گمراہی اور تباہی میں پڑنے کی بجائے