انوارالعلوم (جلد 1) — Page 655
ہم تیرے قریب ہوں۔یہ بڑی ذمہ داری اور بوجھ ہے جس کے اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں جب تک اس کی نصرت نہ آوے ہم نہیں اٹھا سکتے۔پس اهدنا الصراط المستقيم بار بار اور کثرت سے پڑھو۔ہم نہیں جانتے کل کیا ہو گا۔پر سوں کیا ہو گا۔ایک غیب کی بات پر ہاتھ مارنا ہے اگر غیب دان خدامددنہ کرے تو اندیشہ ہے ہلاکت میں پڑ جادیں اس لئے دعائیں کرواستغفار کرو۔استخارے کرو۔درود پڑھو۔تڑپ تڑپ کر دعائیں کرو کہ مولیٰ توہی اپنے فضل سے اس امتحان میں کامیاب کر تیرا مسیح ؑ آیا۔بہتوں نے انکار کیا اور وہ ٹھوکر کھا کر اس پتھر پرگرے اور ہلاک ہوئے۔مگر تونے اپنےرحم سے ہمیں ہدایت دی۔پھر اس کی وفات پر پھر ایک موقعہ امتحان کا آیا۔اور تو نے ہماری ہدایت فرمائی۔اب پھر ایک اور موقعہ آیا ہے۔اب بھی فضل کیجئو اور آپ ہماری رہنمائی کرو – ہمارے تمام کاموں میں برکت نازل کیجئو۔دشمنوں کو خوش ہونیکا موقع نہ دیجئو اپنی خدمت کے لئے پاک وجود چن لے۔اللھم آمین سب لوگ اپنے دلوں میں چلتے پھرتے دعائیں کریں آج رات کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مشکلات حل کردیتاہے۔خدا تعالیٰ پر توکل کرو۔اس کے وعدے سچے ہیں۔اس نے جو اپنے مسیح موعودؑ سے وعدے کئے۔وہ پورے ہوئے اور ہو نگے۔ایک انسان جھو ٹاو عده کر لیتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے و عدے سچے ہوتے ہیں و ہ صادق الوعد ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں کی صداقت پر ایمان لاؤ - اور اسی پر توکل اور بھروسہ کرو۔اب میں بھی دعا کرتا ہوں۔تم بھی میرے ساتھ ملکر دعا کرو۔اور اس کے بعد بھی دعائیں کرو۔(اس تقریر کے بعد حضرت صاجزادہ صاحب نے دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے۔خدا جانے دعا میں کیا سوز اورابتہا ل تھا کہ اس نے مسجد نور کو تھوڑی دیر کے لئے مسجد بکاء بنادیا۔کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ تھی۔اور ولوں میں ایک سوزش تھی۔بڑی لمبی دعا کے بعد ایک ایسی تجلیّ معلوم ہوتی تھی۔کہ بجلی کی طرح دلوں پر سکینت کانزول ہوا۔دعا کے بعد حضور بیٹھ گئے۔لوگوں میں ایک قبولیت اور جوش تھا پھر فرمایا کہدو کہ جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ کل روزہ رکھیں۔اس علم اور ارشاد کے بعد آپ مسجد نور سے اٹھے اور نواب صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔) ( الفضل ۱۸مارچ ۱۹۱۴ء)