انوارالعلوم (جلد 1) — Page 637
انوار العلوم جلدا بسم الله الرحمن الرحیم ۶۳۷ اسلامی نماز محمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اسلامی طریق عبادت اس مختصر مضمون سے میری غرض یہ ہے کہ یورپ کے ان نیک دل اور حق پسند لوگوں کو جو اپنی خداداد عقل اور دانائی سے اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ اسلام کے متعلق اس وقت تک جو کچھ ہم کو سنایا گیا ہے چرچ کے ایجنٹوں کے تعصب کا نتیجہ ہے اور جو اسلام کے متعلق تازہ اور بچی اطلاع حاصل کرنا چاہتے ہیں اسلام کے اس لاثانی اصل کی نسبت واقفیت بہم پہنچاؤں جسے اسلام کے عملی حصہ کا پہلا اصل کہا جاتا ہے۔ میری مراد اس سے نماز ہے۔ مگر پیشتر اس کے کہ میں پورے طور پر نماز میں ایک مسلمان کو جو کچھ کرنا پڑتا ہے بیان کروں اور اس کے ادا کرنے میں جو عبارتیں اس کو کہنی پڑتی ہیں ان کا ترجمہ لکھوں دو ضروری امور کا بیان کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ عبادت کی غرض اول امر عبادت کی غرض ایک طرف تو اس پاک ہستی کے حضور اپنے جذبات شکر کا اظہار ہوتا ہے جسے عربی زبان میں اللہ اور انگریزی میں گاڑ (GOD) کہتے ہیں۔ کیونکہ انسان فطرتا اپنے محسن کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ مجبِلَتِ الْقُلُوبُ عَلَى حُبِّ مَنْ أَحَسَنَ إلَيْهَا انسانی دل کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ اپنے محسن سے محبت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ پس نماز کی