انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 632

لیکن باوجود اس کے کہ آپ ؐ کے مخالفوں نے ہر طرح سےآپ کو دق کیا اور تئیس سا ل متواتر بلا وجہ آپؐ کو دکھ دیتے رہے اور ان کے ہا تھ روکنے والا بھی کو ئی نہ تھا او رحضرت مسیح ؑ کے زمانہ کی طرح کو ئی حکومت نہ تھی جس کے قانون سے ڈر کر اہل مکہ رسول کریم ﷺ کو ستا نے میں کو ئی کمی کر تے اور وہ قوم بھی حضرت مسیح ؑکی قوم سے زیادہ سخت تھی لیکن باوجود اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے منہ پر کبھی گا لی نہیں آئی۔ایک دو دن کی تکلیف ہو تو تب بھی کو ئی بات تھی۔سب کہہ سکتے تھے کہ آپ ؐ نے جبر کرکے اپنے آپؐ کورو کے رکھا۔ایک دو ماہ کی با ت ہوتی تب بھی کہہ سکتے تھے کہ تکلیف اٹھا کر خاموش رہے ایک دو سال کا معاملہ ہو تب بھی خیال ہو سکتا تھا کہ اپنے نفس کو مار کر اپنی زبان کو بند رکھا لیکن تئیس سا ل کا لمبا عرصہ جو تکالیف و مصائب سے پر تھا ایک ایسا عرصہ ہے کہ اس عرصہ میں کسی انسان کا ان تکالیف کو بر داشت کرتے ہوئے اور ان عداوتوں کو دیکھتے ہو ئے جو آنحضرت ﷺ کو دیکھنی اور بر داشت کر نی پڑیں ہر قسم کی سخت کلامی سے پر ہیز کر نا او رکبھی فحش گو ئی کی طرف مائل نہ ہونا دلالت کرتا ہے کہ وہ انسان کو ئی عجیب انسان تھا اور نہ صرف عام انسانوں سے برتر تھا بلکہ دوسرے نبیوں پر بھی فضیلت رکھتا تھا۔کیونکہ جہاں اس نے اپنے آپ پر قابو رکھا وہاں دوسرے نبی بھی نہ رکھ سکے۔مجھے اپنے اس بیان کے لئے کسی ایک واقعہ سے استدلال کر نے کی ضرورت نہیں کیونکہ اس معاملہ میں ایک ایسے شخص کی شہا دت موجود ہے جو دس سال متواتر آپ ؐ کے ساتھ رہا اور یہ حضرت انسؓ ہیں وہ فر ما تے ہیں کہ لَمْ یَکُنْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاحِشًا،وَ لَالَعَّانًا،وَلَا سَبَّابًا،کَانَ یَقُوْلُ عِنْدَ الْمَعْتَبَۃِ: مَالَہُ تَرِبَ جَبِیْنُہٗ(بخاری کتاب الادب باب ما ینھی من السباب واللعن)یعنی رسول کریم ﷺ نہ تو گا لی دینے کے عا دی تھے،نہ فحش کلام کے عادی تھے،نہ لعنت کیا کر تے تھے،جب آپ ؐ کو ہم میں سے کسی پر غصہ آتا تو آپؐ صرف اس قدر فر ما دیا کر تے تھے کہ اسے کیا ہوا ہے اس کے ماتھے پر مٹی لگے۔یہ گواہی ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جو کہ آپؐ کے سا تھ آپ ؐ کی عمر کے آخری حصہ میں جس میں سے پہلا حصہ آپ ؐ کی تکلیف کے زمانہ میں سے سب سے سخت زمانہ تھا رہا ہے اور پھر آپؐ کی عمر کا وہ حصہ ہے جبکہ ایام جوانی گزر کر بڑ ھا پا آگیا تھا اور پڑ ھاپے میں عام طور پر انسان کی طبیعت چڑچڑی ہو جا تی ہے لیکن باوجود اس کےوہ گواہی دیتا ہے کہ اس دس سال کے تجربہ سے اسے معلوم ہوا ہے کہ آپؐ نہ تو کبھی کسی کو گا لی دیتے نہ کبھی آپ ؐ کے منہ سے کو ئی فحش کلمہ نکلتا اور نہ کبھی کسی شخص پر لعنت کر تے۔ہا ں حد سےحد غصہ