انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 620 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 620

انوار العلوم جلد ! ۶۲۰ سيرة النبي بات کا ثبوت ہے کہ آپ کوئی نیک بخت بادشاہ نہ تھے بلکہ نبی تھے اور نبیوں کے بھی سردار تھے اور میں ان لوگوں کی کوشش کو نہایت حقار حقارت کی نظر سے دیکھتا ہوں جو آ۔ آپ کی لائف میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ آپ کے افعال کو چند اور بادشاہوں سے مشابہ ر اور بادشاہوں سے مشابہ کر کے دکھاتے ہیں اور اس طرح گویا آپ پر سے وہ اعتراض مٹانا چاہتے ہیں جو آپ کے دشمنوں کی طرف سے کئے جاتے ہیں اس کوشش کا نتیجہ سوائے اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ آنحضرت اللہ ایک اچھے بادشاہ تھے ۔ لیکن ہمارا تو یہ دعوی ہے کہ آپ ایک نبی تھے اور نبیوں کے سردار تھے ۔ پس جب تک آپ کے اخلاق کو دوسرے انسانوں کے اخلاق سے بہتر اور اعلیٰ نہ ثابت کیا جائے ہمارا دعوئی باطل ہو جاتا ہے اور صرف بعض شریف بادشاہوں سے آپ کی مماثلت ثابت کر دینے سے وہ مطلب ہرگز پورا نہیں ہوتا جس کے پورا کرنے کے لئے ہم قلم اٹھاتے ہیں۔ پس میرا آپ کے مقابلہ میں دیگر امراء کی امثلہ پیش کرنا یا ان کی زندگی کی طرف متوجہ کرنا صرف اس غرض کے لئے ہوتا ہے کہ تا بتاؤں کہ اچھے سے اچھے نمونہ کو بھی آپ کے سامنے ا سامنے لاؤ بھی وہ آپ کے آ۔ آگے چمک نہیں سکتا بلکہ آپ" کے سامنے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے نصف النہار کے سورج کے مقابلہ میں شب چراغ ۔ خیر یہ تو ایک ضمنی بات تھی۔ میں اس وقت یہ بیان کر رہا تھا کہ گو بعض امراء تکبر سے خالی تو مل سکتے ہیں لیکن منکسر المزاج امراء بہت ہی کم اور شاذ و نادر ہی ملیں تو ملیں لیکن رسول کریم ا ایک بادشاہ ہو کر جس منکسر المزاجی سے رہتے تھے وہ انسان کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ عرب کی سی قوم کا بادشاہ لاکھوں انسانوں کی جان کا مالک بڑوں اور چھوٹوں کے سامنے اس انکسار سے کام لیتا ہوا نظر آتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دنیا کے بادشاہوں اور امراء کی زندگی کو دیکھو اور ان کے حالات پڑھو تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی اپنے سے ادنی آدمی کو سلام کہنا تو درکنار، اس کے سلام کا جواب دینا بھی ان پر دو بھر ہوتا ہے۔ اول تو بہت سے ہوں گے جو معمولی آدمی کے سلام پر سر ے بھی کم وہ تک بھی نہ ہلائیں گے تو بعض ایسے ملیں گے جو صرف سر ہلا دینا کافی سمجھیں گے ۔ ان سے بھی اسے ہوں گے جو سلام کا جواب دے دیں گے اور جو ابتداء میں سلام کریں وہ تو بہت ہی کم ملیں گے کیونکہ جن کی طبیعت میں تکبر نہ ہو وہ اس بات کو پسند نہ کریں گے کہ کوئی غریب آدمی ان کو سلام کے تو وہ اس کے سلام کا جواب نہ دیں لیکن ابتداء ایک غریب آدمی کو سلام کہنا وہ اپنی شان کے هم خلاف سمجھیں گے۔ لیکن رسول کریم ﷺ کی زندگی کے حالات پڑھ کر دیکھو کہ آپ ہمیشہ سلام کہنے میں سبقت کرتے تھے اور کبھی اس بات کے منتظر نہ رہتے تھے کہ کوئی غریب آدمی آپ کو خود