انوارالعلوم (جلد 1) — Page 611
تڑپ با قی تھی کہ اگر ہو سکے تو اور بھی نرمی ان سے برتوں اور آپؐ بہانہ ہی ڈھونڈتے تھے کہ کو ئی اَو رمعقول وجہ پیدا ہو جا ئے۔تو میں ان کو بلا تاوان لیے چھوڑدوں۔چنانچہ اس موقعے پر آپؐ نے حضرت جبیرؓ سے جو گفتگو فر ما ئی وہ صاف ظاہر کر تی ہے کہ آپؐ کا دل اسی طرف ما ئل تھا کہ کو ئی معقول عذر ہو تو میں ان لو گوں کو یو نہی چھوڑدوں۔ہاں بلا وجہ چھوڑنے میں کئی قسم کے پو لیٹیکل نقص تھے۔جن کی وجہ سے آپؐ بلا کافی وجوہات کے یو نہی نہیں چھوڑ سکتے تھے۔اس گفتگو سے جہاں مذکورہ با لا نتیجہ نکلتا ہے وہاں یہ بھی ظا ہر ہو تا ہے کہ آپؐ کو اپنے محسنوںکے احسانات کیسے یاد رہتے تھے اور آپؐ ان کا بدلہ دینے کےلیے تیار رہتے تھے۔حضرت جبیر ؓفر ما تے ہیں کہ انَّ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فِیْ اُسَارٰی بَدْرٍلَوْکَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِیٍّ حَیًّا ثُمَّ کَلَّمَنِیْ فِیْ ھٰٓؤُلَآءِ النَّتْنٰی، لَتَرَکْتُھُمْ لَہ (بخاری کتاب الجہاد باب ما منّ النبیﷺ علی الاساری) یعنی نبی کریم ﷺ نے قید یانِ بدر کے متعلق فر ما یا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہو تا۔اوران نا شدنیوں کے حق میں سفارش کر تا تو میں ضرور ان کو چھوڑ دیتا۔یہ کیا ہی پیارا کلام ہے۔اور کن بلند خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں۔جن کے سینوں میں احسانات کی قدر کرنے والا دل ہو۔شا ید اکثر ناظرین مطعم بن عدی کے نام اور اس کے کام سے نا واقف ہوں۔اور خیال کریں کہ اس حدیث کا اس مضمون سے کیا تعلق ہے اس لیے میں اس جگہ مطعم بن عدی کا وہ واقعہ بیان کر دیتا ہوں جس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اس موقعہ پر مطعم بن عدی کو یاد فر ما یا اور خواہش فر ما ئی کہ اگر آج وہ ہو تا تو میں ان قید یانِ جنگ کو اس کی سفارش پر چھوڑ دیتا۔آنحضرت ﷺجب مکہ میں تشریف رکھتے تھے تو ایک دفعہ ابو جہل اور اس کے چند ساتھیوں نے مشورہ کرکے قریش کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ بنو ہا شم اور بنو عبد المطلب سے خرید و فروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات بالکل ترک کر دیں کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو ان کے دشمنوں کے سپرد نہیں کر دیتے۔کہ جس طرح چاہیں ان سے سلوک کریں۔چنانچہ اس مضمون کا ایک معاہدہ لکھا گیا کہ آئندہ کو ئی شخص بنو ہا شم اور بنو مطلب کے ہا تھ نہ کو ئی چیز فروخت کرے گا۔نہ ا ن سے خرید ے گا اور نہ ان کےسا تھ کسی قسم کا رشتہ کرے گا۔اس با ئیکاٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش کے شر سے بچنے کے لیے حضرتؐ کے چچا ابو طالب کو مذکورہ با لا دونوں گھرا نوں سمیت مکہ والوں سے علیحدگی اختیار کرنی پڑی۔اور چو نکہ مکہ ایک وادی غیر ذی زرع میں