انوارالعلوم (جلد 1) — Page 35
انوار العلوم جلد 1 ۳۵ محبت الهی XXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXXX ۳ میں ہے کہ ”اب جس کے پاس ہوا ہو لیوے اور اسی طرح جھولی بھی اور جس کے پاس نہ ہو وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خریدے " اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہو سکتا ہے کہ اس تخت کے وعدہ کو اور بھی مضبوط کیا جائے مگر افسوس ہے تخت تو کیا ملنے تھے ان میں سے ایک حواری تو برگشتہ ہو گیا جس نے کہ تمہیں کھوٹے درہم لے کر اپنے استاد کا سراغ بتایا اور ایک نے تین دفعہ یسوع پر لعنت کی۔ پس ایک تو یہ وعدہ تھا جو آج تک پورا نہ ہوا ۔ اور دو سرادہ ہے جو قیامت تک بھی نہ ہو گا یعنی مسیح نے حواریوں سے وعدہ کیا تھا (لوقا باب ۲۱ آیت ۲۷) لوگ ابن آدم کو بدلی میں قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ آتے دیکھیں گے " پھر آیت ۳۲ ۳۳ میں ہے کہ ” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب نہ ہو لیوے یہ پشت کبھی نہ گزرے گی آسمان و زمین مل جائیں گے پر میری باتیں کبھی نہ ملیں گی مگر وہ پشت تو الگ رہی اس زمانہ سے آج تک یہودیوں کی بیسیوں پشتیں گذر گئیں مگر اب تک یسوع آسمان سے قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ نہیں اترا۔ پھر تیسری وعدہ خلافی وہ ہے جو کہ ہم اوپر گناہوں کی معافی کی نسبت بیان کر چکے ہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ جب یہ تینوں وعدے جو مسیح یا خدا نے اپنے بندوں سے کئے تھے وہ آج تک پورے نہیں ہوئے تو اس سے اور کیا امید ہو سکتی ہے ۔ اب ہم آخری بات جو ناظرین کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں وہ عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مسیح لعنتی تھا۔ اور یہ بات بالکل ہی لغو اور بیہودہ ہے کیونکہ لعنت تعلق رکھتی ہے دل سے اور کسی کا لعنتی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ اس کا دل خدا سے پھر گیا۔ مگر یہاں تو خود مسیح ہی خدا تھا اس کا دل پھر تو کس سے پھرا اور اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس وقت انسانی قالب میں تھا تو اور الزام آئے گا اور اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ اس کا دل خدا سے جو باپ تھا پھر گیا اور یہ بات نا ممکن ہے کیونکہ وہ اس کی طرف تو لوگوں کو بلانے آیا تھا پس ان تمام باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں کا خدادہ خدا نہیں جس سے ہم کسی بہتری کی امید کر سکیں یا ہمار ا دل جس کی طرف محبت کرنے کے لئے جھک جائے اور یہ کفارہ کی آڑ بھی سوائے دھوکے کی مٹی کے اور کچھ نہیں اور یہ ایک لغو بات ہے کہ مرے کوئی اور گناہ کسی کے بخشے جائیں ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی دنیا میں ایسا نہیں ہوا کہ ایک شخص کے سردرد ہو اور دوسرا اپنے سر میں پتھر مارے اور وہ جو کہ سردرد میں مبتلا تھا بیماری سے شفایاب ہو پھر ہم کس طرح یقین کر سکتے ہیں کہ مسیح نے دنیا پر رحم کھا کر اپنے آپ کو قربان کر دیا اور دوسروں کے گناہوں کو اپنے سر پر لے لیا۔ اور وہ جو کہ قادر مطلق تھا اور خدا کا اکلوتا بیٹا تھا ایک دن اس پر ایسا بھی آیا کہ وہ اپنے باپ سے