انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 590

انوار العلوم جلدا ۵۹۰ سيرة النبي نہیں کر سکتا یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ایک آدمی کے دل میں یقین ہو کہ اس تعلیم پر چلے بغیر و کمالات حاصل نہیں ہو سکتے ۔ تیسری بات رہی ہے جس کے ثابت کرنے کے لئے میں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ آنحضرت ہر ایک بات کے سمجھانے کے لئے تحمل سے کام لیا کرتے تھے اور بجائے لڑنے کے محبت اور پیار سے کسی کو اس کی غلطی پر آگاہ فرماتے تھے ۔ چنانچہ اس موقع پر جب حضرت علی نے آپ کے سوال کو اس طرح زد کرنا چاہا کہ جب ہم سو جائیں تو ہمارا کیا اختیار ہے کہ ہم جاگیں کیونکہ سویا ہوا انسان اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتا۔ جب وہ سو گیا تو اب اسے کیا خبر ہے کہ فلاں وقت آگیا ہے اب میں فلاں کام کر لوں اللہ تعالی آنکھ کھول دے تو نماز ادا کر لیتے ہیں ورنہ مجبوری ہوتی ہے (کیونکہ اس وقت الارم کی گھڑیاں نہ تھیں) اس بات کو سنکر آنحضرت کو تو حیرت ہوئی ہی تھی کیونکہ آپ کے دل میں جو ایمان تھا وہ کبھی آپ کو ایسا غافل نہ ہونے دیتا تھا کہ تہجد کا وقت گزر جائے اور آپ کو خبر نہ ہو اس لئے آپ نے دوسری طرف منہ کر کے صرف یہ کہہ دیا کہ انسان بات مانتا نہیں جھگڑتا ہے۔ یعنی تم کو آئندہ کے لئے کوشش کرنی چاہئے تھی کہ وقت ضائع نہ ہو نہ کہ اس طرح ٹالنا چاہیے تھا۔ چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں میں نے پھر کبھی تہجد میں ناغہ نہیں کیا۔ طهارة النفس تحمل ہم پہلے حضرت علی کے ایک واقعہ سے ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت ا نہایت بردبار تھے اور بر خلاف بہت سے بادشاہوں کے جو اپنے خلاف بات سن کر یا اپنی مرضی کے ناموافق حرکت دیکھ کر نہایت غصہ اور جوش سے بھر جاتے ہیں اکثر چشم پوشی اور اعراض سے کام لیتے تھے اور ایسا طریق اختیار کرتے جس میں تحمل کا پہلو غالب ہو ۔ اب ہم ایک اور ایسا ہی واقعہ بیان کرتے ہیں جو ایک دوسرے پہلو سے آپ کے محل پر روشنی ڈالتا ہے اور آپ کی صفات حسنہ کو اور بھی روشن کر کے ظاہر کرتا ہے ۔ ۔ آنحضرت ا ہو ا زن پر فتح پا کے واپس آرہے تھے اور اس جنگ میں جو اموال مسلمانوں کے ہاتھ آئے ان کی تقسیم کا سوال در پیش تھا۔ آپ کا منشا تھا کہ اگر ہو ا زن تائب ہو کر آجائیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو ان کے اموال اور قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں لیکن دن پر دن گذرتے چلے گئے اور ہوازن کی طرف سے کوئی وفد طلب گار معافی ہو کر نہ آیا ۔ بہت دن تک آپ نے تقسیم اموال کے کام کو تعویق میں رکھا۔ لیکن آخر اس بات کو مناسب سمجھا کہ اموال تقسیم کر ام دیئے جائیں۔ چنانچہ جعرانہ پہنچ کر آپ نے ان اموال کو تقسیم کرنا شروع کیا۔ منافق تو ہمیشہ اس