انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 589

ایسے ایسے منافع اندر رکھتا تھا کہ جس کا عُشر عَشِیر کسی اَور کی سوبحثوں سے نہیں پہنچ سکتا تھا۔اس حدیث سے ہمیں بہت سی باتیں معلوم ہو تی ہیںجن سے آنحضرتؐ کے اخلاق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے اور اسی جگہ ان کا ذکر کردینامناسب معلوم ہوتا ہے۔اول تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ کو دینداری کا کس قدر خیال تھا کہ را ت کے وقت پھر کراپنے قریبیوں کا خیال رکھتے تھے۔بہت لوگ ہو تے ہیں جو خود تونیک ہو تے ہیں، لوگوں کو بھی نیکی کی تعلیم دیتے ہیں لیکن ان کےگھر کا حال خراب ہو تا ہے اور ان میں یہ ما دہ نہیں ہو تا کہ اپنے گھر کے لوگوں کی بھی اصلاح کریں اور انہی لو گوں کی نسبت مثل مشہور ہے کہ چراغ تلے اندھیرا۔یعنی جس طرح چراغ اپنے آس پا س تمام اشیاء کو رو شن کر دیتا ہے لیکن خود اس کے نیچے اندھیرا ہو تا ہے اسی طرح یہ لوگ دوسروں کو تو نصیحت کر تے پھرتے ہیں مگر اپنے گھر کی فکر نہیں کرتے کہ ہماری روشنی سے ہمارے اپنے گھر کے لو گ کیا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔مگر آنحضرتؐ کواس بات کا خیال معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عزیز بھی اس نور سے منور ہوں جس سے وہ دنیا کو روشن کر نا چاہتے تھے اور اس کا آپؐ تعہّدبھی کر تے تھے اور ان کے امتحان و تجربہ میں لگے رہتے تھے،اور تربیت اعزّاء ایک ایسا اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہے جو اگر آپؐ میں نہ ہو تا تو آپؐ کے اخلاق میں ایک قیمتی چیز کی کمی رہ جا تی۔دوسری بات یہ معلوم ہو تی ہے کہ آپؐ کو اس تعلیم پر کامل یقین تھا جو آپؐ دنیا کے سامنے پیش کر تے تھے اور ایک منٹ کے لیے بھی آپؐ اس پر شک نہیں کر تے تھے اور جیسا کہ لوگ اعتراض کر تے ہیں کہ نَعُوْذُبِاللّٰہ دنیا کو الّو بنانے کے لیے اور اپنی حکومت جمانے کے لیے آپؐ نے یہ سب کارخانہ بنا یا تھا ورنہ آپؐ کو کو ئی وحی نہ آتی تھی۔یہ با ت نہ تھی۔بلکہ آپؐ کو اپنے رسول اور خدا کے ما ٔمور ہو نے پر ایساثلجِ قلب عطا تھا کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔کیونکہ ممکن ہے کہ لوگوں میں آپؐ بناوٹ سے کام لے کر اپنی سچائی کو ثابت کرتے ہوں لیکن یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ رات کے وقت ایک شخص خاص طور پر اپنی بیٹی اور داماد کے پا س جا ئے اور ان سے دریافت کرے کہ کیا وہ اس عبادت کو بھی بجا لاتے ہیں جو اس نے فر ض نہیں کی بلکہ اس کا ادا کر نا مومنوں کے اپنے حالات پر چھوڑ دیا ہے اور جو آدھی رات کے وقت اٹھ کر ادا کی جا تی ہے۔اس وقت آپؐ کا جا نا اور اپنی بیٹی اور داماد کو ترغیب دینا کہ وہ تہجد بھی ادا کیا کریں اس کامل یقین پر دلالت کر تا ہے جو آپؐ کو اس تعلیم پر تھا جس پر آپؐ لو گوں کو چلا نا چاہتے تھے ورنہ ایک مفتر ی انسان جو جانتا ہو کہ ایک تعلیم پر چلناایک سا ہے اپنی اولاد کو ایسے پو شیدہ وقت میں اس تعلیم پر عمل کر نے کی نصیحت