انوارالعلوم (جلد 1) — Page 588
کر تے کہ دوسرا خود بخود شرمندہ ہو جا ئے۔حضرت علیؓ اپنا ایک واقعہ بیان فر ما تے ہیںجس سے ثابت ہو تا ہے کہ ایک موقع پر جبکہ حضرت علی ؓنے آپؐ کو ایسا جواب دیا جس میںبحث اور مقابلہ کا طرز پا یا جا تا تھا تو بجائے اس کے کہ آپؐ ناراض ہو تے یا خفگی کا اظہار کر تے آپؐ نے ایک ایسی لطیف طرز اختیار کی کہ حضرت علی ؓغالباً اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس کی حلاوت سے مزا اٹھا تے رہے ہوں گے اور انہوں نے جو لطف اٹھا یا ہو گا وہ تو انہیں کا حق تھا۔اب بھی آنحضرتﷺ کے اس اظہار ناپسندیدگی کو معلوم کر کے ہر ایک باریک بین نظر محوِحیرت ہو جا تی ہے۔حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتےہیںاَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَرَقَہٗ وَ فَاطِمَۃَ بِنْتَ النَّبِیِّ عَلَیْہِ السَّلَامُ لَیْلَۃً فَقَالَ: اَلَا تُصَلِّیَانِ فَقُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ،اَنْفُسُنَا بِیَدِ اللّٰہِ،فَاِذَا شَآءَ اَنْ یَّبْعَثَنَا بَعَثَنَا،فَانْصَرَفَ حِیْنَ قُلْنَا ذَالِکَ وَلَمْ یَرْجِعْ الَیَّ شَیْئًا،ثُمَّ سَمِعْتُہٗ وَھُوَ مُوَلٍّ،یَضْرِبُ فَخِذَہٗ،وَھُوَ یَقُوْلُ:وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلاً (بخاری کتاب التہجد باب تحریض النبی ﷺ علی قیام اللیل)یعنی نبی کریم ﷺ ایک رات میرے اور فاطمۃ الزہراؓ کے پاس تشریف لا ئےجو رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور فر ما یا کہ کیا تم تہجد کی نماز نہیں پڑھا کر تے۔میں نے جواب دیا کہ یا رسولؐ اللہ !ہماری جا نیں تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں جب وہ اٹھا ناچاہے اٹھا دیتا ہے۔آپؐ اس بات کو سن کر لوٹ گئے اور مجھے کچھ نہیںکہاپھر میں نے آپؐ سے سنا اور آپؐ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہو ئے تھے اور آپؐ اپنی ران پر ہا تھ مار کر کہہ رہے ہیں کہ انسان تو اکثر با توں میں بحث کرنے لگ پڑتا ہے۔اللہ اللہ !کس لطیف طرز سے حضرت علیؓ کو آپؐ نے سمجھایا کہ آپؓ کو یہ جواب نہیں دینا چاہیے تھا۔کوئی اَور ہو تا تو اول تو بحث شروع کر دیتا کہ میری پو زیشن اور رُتبہ کو دیکھو۔پھر اپنے جواب کو دیکھو کہ کیا تمہیں یہ حق پہنچتا تھا کہ اس طرح میری بات کو رّد کر دو۔یہ نہیں تو کم سے کم بحث شروع کر دیتا کہ یہ تمہارا دعویٰ غلط ہے کہ ا نسان مجبور ہے اور اس کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیںوہ جس طرح چاہے کروا تا ہے چاہے نماز کی توفیق دے چاہے نہ دے اور کہتا کہ جبر کا مسئلہ قرآن شریف کے خلاف ہے لیکن آپؐ نے ان دونوں طریق میں سے کو ئی بھی اختیار نہ کیا اور نہ تو ان پر ناراض ہو ئے نہ بحث کرکے حضرت علیؓ کو ان کے قول کی غلطی پر آگاہ کیا بلکہ ایک طرف ہو کر ان کے اس جواب پر اس طرح اظہار حیرت کر دیا کہ انسان بھی عجیب ہے کہ ہر بات میں کو ئی نہ کو ئی پہلو اپنے موافق نکال ہی لیتا ہے اور بحث شروع کر دیتا ہے حقیقت میں آپؐ کا اتنا کہہ دینا