انوارالعلوم (جلد 1) — Page 584
تھے اور پھر سو ئے ہوئےجا گے تھے جس کی وجہ سے کوئی ظا ہری تدبیر دشمن کے حملہ کو روکنے کی نہ تھی اور پھر آپ ؐ غیر علا قہ میں تھے اور دشمن اپنی جگہ پر تھا جہاں اپنی حفا ظت کا اسے ہر طرح یقین تھا مگر با وجود ان حالات کے آپؐ نے ایک ذرہ بھر بھی تو گھبرا ہٹ ظاہر نہ کی۔اس اعرا بی کا یہ کہنا بھی کہ اب تجھے کو ن بچا سکتا ہے صاف ظاہر کر تا ہے کہ اسے بھی کامل یقین تھا کہ اب کو ئی دنیا وی سامان ان کے بچاؤ کا نہیں مگر اسے کیا معلوم تھا کہ جس شخص پر میں حملہ کر نا چاہتا ہوں وہ معمولی انسانوںمیں سے نہیں بلکہ ان میں سے ہے جو خالق ارض و سما کے در بار کے مقرب اور اس کے ظلِّ عافیت کے نیچے آئے ہو ئے ہو تے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے اسےجس آرا م اور اطمینان قلب کے سا تھ جواب دیا ہےکہ مجھے اللہ بچائے گا وہ روز رو شن کی طرح اس با ت کوثا بت کر رہا ہے کہ آپؐ کے دل میں غیر اللہ کا خوف ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں آتا تھا اور آپؐ کا دل ایسا مضبوط اور قوی تھا کہ خطرناک سے خطر ناک اوقات میں بھی اس میں گھبرا ہٹ کا وجود نہ پا یا جا تا تھا اور اپنے حواس پر آپؐ کو اس قدر قدرت تھی کہ اور تو اور خود دشمن بھی جو آپؐ کے قتل کے ارادہ سے آیا تھا بد حواس ہو گیا اور اس کے ہا تھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی کیونکہ اس نے دیکھ لیا کہ میں ایک ایسی طاقت کا مقابلہ کر رہا ہوں جسے نقصان پہنچانے کی بجا ئے میں خود تباہ ہو جا ؤں گا۔ہمیشہ خیر اختیار کر تےآنحضرت ﷺ کبھی ضد سے کام نہ لیتے تھے بلکہ جس بات میں خیر دیکھتے اس کو اختیار کر تے تھے اور قطعاً اس بات کی پروا نہ کر تے کہ اس سے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی تو نہیں ہو تی۔ہم دیکھتے ہیں کہ رجالِ سیاستِ دنیویہ نے اپنے اصولوں میں سے ایک یہ اصل بھی بنا رکھی ہے کہ با دشاہ یا حاکم جو حکم دے دے اور جو فیصلہ کر دے اس میں تغیر نہ کرے اور جس طرح کیا ہے اس پر قائم رہے تا کہ لو گوں کے دل میں یہ نہ خیال پیدا ہو کہ ہم نے ڈرا کر منوالیاہے یا کم سے کم دوسروں کے سامنے شرمندہ نہ ہو نا پڑے کہ ایک با ت کہہ کر پھر اس سے رجوع کر لیا ہے اور اس اصل پر رِجالِ سیاست ایسے پکے اور قائم رہتے ہیں کہ بعض اوقات جنگوں تک نوبت پہنچ جا تی ہے مگر وہ اپنی بات کی پچ کے لیے اور دبدبہ حکومت قائم رکھنے کے لیے ملک کو جنگ میں ڈال دیتے ہیں لیکن اس بات کو پسند نہیں کر تے کہ اپنے فیصلہ کو واپس لے لیں۔جو لوگ تا ریخِ انگلستان سے واقف ہیں ا ن سے یہ امر پو شیدہ نہیں کہ ریا ستہا ئے متحدہ سے