انوارالعلوم (جلد 1) — Page 583
ٹھہر گئے اور اپنی تلوار اس در خت سے لٹکا دی۔جا بر ؓ فر ما تے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر سو گئے پھر اچانک آنحضرتؐ کی آواز آئی کہ آپؐ ہمیں بلا تےہیں پس ہم آپؐ کے پاس آئے اور کیا دیکھتے ہیں کہ آپؐ کے پا س ایک اعرا بی بیٹھا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا کہ اس شخص نے میری تلوار میان سے کھینچی اور میں سو رہا تھا پس میں جا گ پڑا اور اس کے ہا تھ میں ننگی تلوار تھی پس اس نے مجھے کہا کہ مجھ سے تجھے کو ن بچائے گا میں نے اسے جواب دیا کہ اللہ بچائے گا۔پس دیکھو یہ سامنے بیٹھا ہے پھر جا بر ؓ فر ما تے ہیں کہ آنحضرت ؐ نے اسے کوئی سزانہ دی۔دوسری جگہوں سے اس واقعہ میں اس قدر اور زیادتی معلوم ہو تی ہے کہ اللہ کا نام سن کر اس شخص پر اس قدر ہیبت طاری ہو ئی کہ اس کے ہا تھ سے تلوار گر گئی اور آنحضرتؐ نے اٹھا لی اور اس سے فر ما یا کہ اب تجھے میرے ہا تھ سے کو ن بچائے گا تو اس نے جواب دیا کہ کو ئی نہیں۔پھر آپؐ نے اسے چھوڑ دیا اور صحابہ ؓکو بلا کر دکھا یا۔اس حدیث سے کیسے واضح طور سے معلوم ہو تا ہے کہ آنحضرتؐ کو اپنے حواس پر ایسا قابو تھا کہ نہایت خطر ناک اوقات میں بھی آپؐ نہ گھبرا تے۔کہنے کو تو شا ید یہ ایک چھو ٹی سی بات معلوم ہو تی ہے کہ اس اعرا بی نے آپؐ سے پو چھا کہ اب آپؐ کو کون بچا ئے گا اور آپؐ نے فر ما یاکہ اللہ لیکن عمل میں یہ بات مشکل ترین امور میں سے ہے۔اول تو سو یا ہوا انسا ن پہلے ہی بہت سی غفلتوں کے نیچے ہوتا ہے اور بغیر کسی خوف و خطر کے بھی ایک سوئے ہو ئے آدمی کو جگا دیا جا ئے تو وہ گھبرا جا تا ہے اور کسی خطر ناک آواز یا نظارہ کو اگر ایک سو یا ہوا انسان سن کر یا دیکھ کر اٹھے تو اس کےحواس قائم رہنے نہایت مشکل ہوتے ہیں۔پس اگر جا گتے ہو ئے کو ئی دشمن حملہ کر تا تو وہ واقعہ ایسا صاف اور روشن نہ ہو تا جیسا کہ یہ ہے کیونکہ اس سے ایک طرف تو یہ ثابت ہو تا ہے کہ آپؐ کو کسی خطرہ کا گمان تک بھی نہ تھا جب اس شخص نے آپؐ پر حملہ کیااور آپؐ کسی ایسے فعل سے انتہا ئی درجہ کی لا علمی میں تھے اور دوسری طرف دشمن کو اس موقع سے فا ئدہ اٹھا کر ہر قسم کی تیاری اور ہوشیاری کا موقع حاصل تھا۔علا وہ ازیںایک آدمی جب بیٹھا یا کھڑا ہو تو وہ حملہ آور کا مقابلہ نہا یت آسانی سے کر سکتا ہے اور کم سےکم اسے اپنی جگہ بدلنے میں آسانی ہو تی ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کے حملہ کو اگر طاقت اور قوت سے میں نہیں رو ک سکتا تو کم سے کم چستی اور چالاکی سے اس کے حملہ کو ضرور بچاسکتا ہوں اور اس کی ضرب سے ایک طرف ہو کر اپنی جا ن بچانے کا موقع حاصل ہو سکتا ہے لیکن آنحضرت ؐ اس وقت لیٹے ہو ئے