انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 582

انوار العلوم جلدا ۵۸۲ سيرة النبي مخالف امراء ۔ اور ہر فرقہ کے پیروؤں سے خصوصاً اور باقی دنیا سے عموماً جنگ شروع کر چکا ہو اور ان کے عقائد اور خیالات کو مٹاکر ان کی جگہ اپنی لائی ہوئی تعلیم کو پھیلانے میں کوشاں ہو ۔ اس سے دیگر مذاہب اور امراء کے پیروؤں اور متبعین کو جو کچھ کو جو کچھ بھی عداوت ہو کم ہے اور وہ ہر ممکن سے ممکن ذرائع سے اسے تکالیف پہنچانے کی کوشش کریں گے اور خصوصاً جبکہ انہیں معلوم ہو کہ جس شخص کو ایذاء پہنچانا انہیں مقصود ہے وہ بغیر کسی نگرانی یا پہرہ کے گلیوں اور میدانوں میں تن تنہا چلتا پھرتا انہیں مل سکتا ہے۔ آپ کے مخالفین نے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کے لئے جو تدابیر کیں جو تدابیر کیں ان سے بحیثیت مجموعی مجھے غرض نہیں۔ میں صرف بخاری کی روایات سے کچھ واقعات اس سیرت میں بیان کر رہا ہوں جن سے آپ کے اخلاق پر روشنی پڑتی ہے اس لئے صرف ایک ایسا واقعہ جس سے معلوم ہو سکے گا کہ کس طرح آپ کی جان پر اچانک حملہ کیا گیا اور آپ نے اس وقت اپنے ہوش وحوا حواس کو کس طرح بجار کھا۔ اس جگہ بیان کرتا ہوں۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُ فَأَدْرَكَتْهُمُ الْقَائِلَةٌ فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاءِ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاءِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَ نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ سَمُرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا نَوْمَةً ثُمَّ إِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْنَا فَجِئْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِي جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفِي وَأَنَا نَائِمَ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْنَا فَقَالَ لِي مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي قُلْتُ اللهُ فَهَا هُوَ ذَا جَالِسٌ ، ثُمَّ لَمْ يُعَاقِبُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوة ذات الرقاع ) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ اللہ کے ساتھ نجد کی جانب ایک غزوہ میں شریک ہوئے اور جب آپ سفر سے لوٹے ۔ تو آپ بھی حضور کے ساتھ لوٹے راستہ میں لشکر ایک ایسی وادی میں جو کانٹے دار درختوں سے پُر تھی دو پہر کے وقت گزرا۔ پس رسول اللہ ا وہاں اتر پڑے اور آپ کے ساتھی ادھر ادھر درختوں میں پھیل گئے اور درختوں کے سائے میں آرام کرنے لگے ۔ آنحضرت ا بھی ایک کیکر کے درخت کے نیچے