انوارالعلوم (جلد 1) — Page 569
انوار العلوم جلدا ۵۶۹ سيرة النبي ٹھرے تھے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اور لوگ بھی آنحضرت کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ آپ کی اونٹنی اس جگہ پر جا کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں آنحضرت کی مسجد بنائی گئی اور اس جگہ ان دنوں میں کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سہیل اور سہل نامی دو لڑکوں کی کھجوریں سکھانے کا مقام تھا جو یتیم تھے اور اسعد بن زرارہ کی ولایت میں تربیت پارہے تھے۔ پس رسول اللہ ا نے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی فرمایا کہ انشاءا انشاء اللہ یہاں ہمارے ر۔ ہمارے رہنے کی جگہ ہوگی۔ پھر رسول اللہ ا نے ان دونوں لڑکوں کو جن کی وہ جگہ تھی بلوایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تاکہ وہاں آپ مسجد تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے ہاتھ فروخت نہیں کرتے بلکہ آپ کو ہبہ کرتے ہیں۔ مگر رسول اللہ ا نے ان سے بطور ہبہ کے وہ زمین لینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ ان دونوں لڑکوں نے وہ زمین فروخت کر دی۔ پھر آپ نے وہاں مسجد بنانی شروع کی اور مسجد بنتے وقت آپ خود بھی صحابہ کے ساتھ اینٹیں ڈھوتے تھے اور ڈھوتے وقت یہ شعر پڑھتے جاتے تھے ۔ یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں بلکہ اے ہمارے رہ ے رب یہ اس سے زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔ اسی طرح آپ یہ شعر بھی پڑھتے اے خدا بدلہ تو وہی بہتر ہے جو آخرت کا ہو پس جب یہ بات ہے تو تو مہاجرین اور انصار پر رحم فرما۔ اس حدیث میں آپ کا یہ قول کہ یہ بوجھ خیبر کا بوجھ نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ لوگ خیبر سے کھجوریں یا اور پھل پھول ٹوکروں میں بھر کر لایا کرتے تھے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ اینٹیں جو ہم اٹھا رہے ہیں یہ اس بوجھ کی طرح نہیں ہیں بلکہ اس میں تو دنیا کا فائدہ ہوتا ہے اور اس بوجھ کے اٹھانے سے آخرت کا فائدہ ہے اس لئے یہ بوجھ اس بوجھ سے بہت بہتر اور عمدہ ہے۔ کار اس حدیث کو پڑھ کر کون انسان ہے جو حیرت میں نہ پڑ جائے ۔ آنحضرت کے ارشاد پر قربان ہونیوالوں کا ایک گروہ موجود تھا جو آپ کی راہ میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار تھے مگر آپ کا یہ حال ہے کہ خود اپنے جسم مبارک پر اینٹیں لاد کر ڈھو رہے ہیں۔ یہ وہ کمال ہے جو ہر ایک بے تعصب انسان کو خود بخود آپ کی طرف کھینچ لیتا ہے اور چشم بصیرت رکھنے والا حیران رہ جاتا ہے کہ یہ پاک انسان کن کمالات کا تھا کہ ہر ایک بات میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے ایک گھر بن رہا ہے اور آپ اس کی اینٹیں ڈھونے کے ثواب میں بھی شامل ہیں۔ خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کرنے والوں کو لا کر دیتے ہیں۔ یہ وہ عمل تھا جس نے آپ کو ابراہیم کا سچا وارث اور جانشین ثابت کر دیا تھا کیونکہ اگر حضرت ابراہیم نے خود اینٹیں ڈھو