انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 568

سب کا موں میں صحابہ ؓ کے مدد گار رہتے آپؐ مسجد کی اینٹیں ڈھوتے رہتےآنحضرت ﷺ کی کو نسی خوبی ہے جسے انسان خاص طور پر بیان کر سکے۔کو ئی شعبۂ زندگی بھی تو نہیں جس میں آپؐ دوسروں کے لیے نظیر نہ ہوں۔مختلف خوبیوں میںمختلف لوگ باکمال ہو تے ہیں مگر یہ دین و دنیا کا با دشاہ تو ہر با ت میں دوسروں پر فائق تھا۔جو بات بھی لواس میں آپؐ کو صاحبِ کمال پاؤ گے۔میں نے پچھلے باب میں بتا یا تھا کہ آپ ؐ اپنے گھر میں بیویوں کو ان کے کاموںمیں مدد دیتے تھے مگر اب اس سے زیادہ میں ایک واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں آپؐ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کا م میں حرج نہ دیکھتے تھے بلکہ اس میںفخر محسوس کر تے تھے اور صحابہ ؓکے دو ش بدوش ہو کر ہر ایک چھوٹے سے چھوٹا کام کرتے اور کبھی یہ نہ ہو تا کہ انہیں حکم دے دیں اور آپ خاموش ہو کر بیٹھ رہیں۔صحابہ ؓکی خوشی تو اسی میں تھی کہ آپؐ آرام فرما ئیں اور وہ آپؐ کے سامنے اپنی فدائیت اور اخلاص کے جو ہر دکھا ئیں مگر آپؐ کبھی اس کو پسند نہ فر ما تے اور ہر کا م میں خود شریک ہو تے اور صحابہ ؓ کا ہاتھ بٹاتے۔حضرت عائشہ ؓ ہجرت کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کرکے فر ما تی ہیں کہثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہٗ فَسَارَ یَمْشِیْ مَعَہٗ النَّاسُ حَتّٰی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِیْہِ یَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَکَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُھَیْلٍ وَسَھْلٍ غُلَامَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِیْ حَجْرِ اَسْعَدَ بْنِ زُرَارَ ۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ بَرَکَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہٗ ھٰذَا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَیْنِ فَسَاوَمَھُمَا بِالْمِرْبَدِ لِیَتَّخِذَہٗ مَسْجِدًا فَقَالَا لَا بَلْ نَھَبُہٗ لَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَبیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَنْ یَقْبَلَہُ مِنْھُمَا ھِبَۃً حَتَّی ابْتَاعَہٗ مِنْھُمَا ثُمَّ بَنَاہُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْقُلُ مَعَھُمُ اللَّبِنَ فِیْ بُنْیَانِہٖ وَیَقُوْلُ وَھُوَ یَنْقُلُ اللَّبِنَ ھٰذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَیْبَرَھٰذَا اَبَرُّ رَبَّنَا وَ اَطْھَرُوَیَقُوْلُ اللّٰھُمَّ اِنَّ الْاَجْرَ اَجْرُ الْاٰخِرَۃِ فَارْحَمِ الْاَنْصَارَ وَ الْمُھَاجِرَۃَ (بخاری باب ھجرۃ النبی صَلَّی اللہ علیہ وسلم واصحابہ الی المدینہ) یعنی پھر آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار ہو ئے او ربنی عمرو بن عوف کے پاس سے جہاں آپؐ سب سے پہلے آکر