انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 567

انوار العلوم جلدا ۵۶۷ سيرة النبي ال خوردن برای زیستن و ذکر کردن است اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ آپ کا کھانا بھی نہایت سادہ ہوتا تھا اور جو کچھ کھاتے تھے اس میں بھی صَلَّى الله بہت تکلفات سے کام سے کام نہ لیتے تھے ۔ حضرت انس سے روایت ہے کہ مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَلَى سُكُرَجَةٍ قَطُّ وَلَا خُبِزَلَهُ مُرَقَّقَ قَطُّ وَلَا أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ قَطُّ قِيلَ لِقَتَادَةَ فَعَلَى مَا كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ ) بخاری کتاب الاطعمة باب الخبز المرقق و الاكل علی الخوان، مجھے نہیں معلوم ہوا کہ آنحضرت نے کبھی تشتریوں میں کھایا ہو اور نہ آپ کے لئے کبھی چپاتیاں پکائی گئیں اور نہ کبھی آپ نے تخت پر کھایا ۔ قتادہ بھی اللہ سے (جنہوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے) سوال کیا گیا کہ پھر وہ کس پر کھایا کرتے تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ دستر خوان پر ۔ حضرت انس کی روایت اس لحاظ سے قریباً اہل بیت کے برابر سمجھی جانے کے قابل ہے کہ آپ ابھی بچہ تھے کہ آنحضرت ا کے ساتھ رہے کیونکہ ان کے رشتہ داروں نے انہیں آنحضرت کی خدمت کے لئے پیش کیا تھا اور یہ آنحضرت کے مدینہ میں تشریف لانے کے وقت سے جو آپ کے ساتھ رہے تو وفات تک الگ نہ ہوئے اور آپ کی زندگی بھر خدمت میں مشغول رہے۔ پس آپ کی روایت ایک واقف کار کی روایت ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ایسے امور میں بہت سے دوسروں کی نسبت زیادہ پختہ اور مضبوط رائے دے سکتا تھا اس لئے نہایت وزن دار اور واقعات کے مطابق ہے۔ اب اس زندگی کو مجموعی حیثیت سے دیکھو کہ ایک انسان بادشاہ ہے اسے سب کچھ نصیب ہے۔ اگر چاہے تو اچھے سے اچھے کھانے کھا سکتا ہے اور پُر تکلف دستر خوانوں پر بیٹھ سکتا ہے لیکن باوجود مقدرت کے وہ اسی بات پر کفایت کرتا ہے کہ کبھی تو کھجور اور پانی سے اپنی بھوک کو تو ڑ لیتا ہے اور کبھی جو کی روٹی کھا کر گزارہ کر لیتا ہے اور کبھی گیہوں کی روٹی تو کھاتا ہے مگر وہ بے چھنے آٹے کی ہوتی ہے۔ پھر نہ ! ہوتی ہے۔ پھر نہ اس کے سامنے کوئی بڑا دستر خوان بچھایا جاتا ہے نہ سینیوں میں کھانا چنا جاتا ہے بلکہ ایک معمولی دستر خوان پر سادہ کھانا رکھ کر کھا لیتا ہے اور باوجود ایسی سادہ زندگی بسر کرنے کے دنیا کے اعلیٰ سے اعلیٰ کھانا کھانے والوں اور اپنے جسم کی پرورش کرنیوالوں سے ہزار گنا بڑھ کر کام کرتا ہے۔ آنحضرت نے اپنی زندگی میں یہ بھی نمونہ دکھا دیا ہے کہ ہر قسم کی اعلیٰ سے اعلیٰ غذا میں بھی استعمال فرما لیتے تھے مگر دو سری طرف اس سادہ زندگی سے ہمارے ان امراء کے لئے ایک نمونہ بھی قائم کر دیا ہے جن کی زندگی کا انتہائی مقصد اعلیٰ خوراک اور پوشاک ہوتی ہے۔