انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 557

ساد گی ایک نعمت ہےاس زمانے میں لوگ عام طور پر تکلف کی عادت میں بہت مبتلا ہیں اور اس زمانے کی خصوصیت نہیں جو قوم ترقی کرلے اس میں تکلف اپنا دخل کر لیتا ہے۔دولت اور مال اور عزت کے ساتھ سا تھ تکلف بھی ضرور آموجود ہو تا ہے اور بڑے آدمیوں کو کچھ نہ کچھ تکلف سے کام لینا پڑتا ہے لیکن جو مزا سا دگی کی زندگی میں ہے وہ تکلف میں نہیں۔اور گو تکلف ظاہر میں خوشنما معلوم ہو مگر اندر سے بہت تکلیف دہ ہو تا ہے۔ذوق نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر آرام سے ہیں و ہ جو تکلف نہیں کر تے تکلف کی وجہ سے لا کھوں گھرا نے بر باد ہو جا تے ہیں اور تصنع اور بناوٹ ہزاروں کی بر با دی کا باعث ہو چکے ہیںمگر چونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تکلف کے سوا ہماری عزت نہیں ہو تی برابر اس مرض میں مبتلا چلے جا تے ہیں اور کچھ علاج نہیں کرتے۔بادشاہ اور امراء یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تکلف اور بناوٹ سے ہم اپنی خاص شان نہ بنا ئے رکھیں گے تو ماتحتوں میں بھی ہماری عزت نہ ہو گی اور اپنے ہم چشموں میں ذلیل ہوں گے اسی لیے بہت سے مواقع پر سادگی کو بر طرف رکھ کربناوٹ سے کام لیتے ہیں اور ہزاروں موقعوں پر اپنے ما فی الضمیر کو بھی بیان نہیں کر سکتے۔میں ایک مجلس میں شامل ہوا جہاں بہت سے بڑے بڑے لوگ جمع تھے جو اس وقت ہندوستان میں خاص شہرت رکھتے ہیں اور بعض ان میں سے لیڈرانِ قوم کہلاتے ہیں۔ان میں سے کچھ ہندو تھے کچھ مسلمان۔جب سب لوگ جمع ہو گئے تو ایک بیرسٹر صاحب نے کہا ایک مدت ہو گئی کہ تکلف کے ہا تھوں میں تکلیف اٹھا رہا ہوں۔ہر وقت بناوٹ سے اپنے آپ کو سنجیدہ بنا ئے رکھنا پڑتا ہے اور بہت سی با تیں کر نے کو دل چاہتا ہے مگر تکلف مانع ہو تا ہے کیونکہ وہ شان قائم نہیں رہتی مگر اب میں با لکل تنگ آگیا ہوں۔اس زندگی کا فا ئدہ کیا۔ایک دوسرے صاحب بو لے کہ بے شک میرا بھی یہی حال ہے اور میں تو اب اس زندگی کو جہنم کا نمونہ پا تا ہوں پھرتو سب نے یہی اقرار کیا اور تجویز ہو ئی کہ آج کی مجلس میں تکلف چھوڑ دیا جا ئے اور بے تکلفی سے آپس میں بات چیت کریں اور بناوٹ نزدیک نہ آئے۔مگر خدا تعالیٰ انسان کو اس سادگی سے بچائے جو اس وقت ظاہر ہوئی۔اسے دیکھ کر معلوم ہو سکتا تھا کہ آج دنیا کی کیا حالت ہے کیونکہ جس قدر قوم کے لیڈر یہ نمونہ دکھا رہے تھے اس کے عوام نے کیا کمی رکھی ہوگی۔کلام ایسا فحش کہ شریف آدمی سن نہ سکے۔مذاق ایسا گندہ کہ سلیم الفطرت انسان بر داشت نہ کرسکے۔باتوں سے گزر کر ہا تھوں پر آگئے اور ایک دوسرے کے سر پر چپتیں بھی رسید ہونی شروع ہو