انوارالعلوم (جلد 1) — Page 556
آپؐ کی احتیاط تھی کہ در خواست کر نے والے کو کوئی عہد ہ نہیں دیتے تھے۔در حقیقت اگر غور کیا جا ئے تو ایک شخص جب کسی عہد ہ کی خود در خواست کر تا ہے تو صاف ثابت ہو تا ہے کہ اس کی کو ئی غرض ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ اس عہدہ پر قائم ہو کر وہ لوگوں کو دکھ دے اور ان کے اموال پر دست اندازی کرے۔مگر جس شخص کو اس کی درخواست کے بغیر کسی عہدہ پر مامور کیا جا ئے تو اس سے بہت کچھ امید ہو سکتی ہے کہ وہ عدل و انصاف سے کام لے گا اور لوگوں کے حقوق کو تلف نہ کرے گا کیونکہ اسے اس عہدہ کی خواہش ہی نہ تھی بلکہ خود بخود اسے سپرد کیا گیا ہے۔دوسرے یہ بھی بات ہے کہ جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو شخص خود کسی عہدہ کی درخواست کرے یا کسی سے سفارش کروائے اسے کو ئی عہدہ دینا ہی نہیں تو اس سے یہ بڑا فائدہ ہوتا ہے کہ آئندہ کے لیے جا ئز و نا جا ئز و سائل سے حکام کے مزاج میں دخل پیدا کرنے کا بالکل سدّ باب ہوجا تا ہےاور خوشامد بند ہو جا تی ہے کیونکہ حکام سے رسوخ پیدا کر نے یا ان کی جھوٹی خوشامد کرنے سے یہی غرض ہو تی ہے کہ کچھ نفع حاصل کیا جا ئے۔پس جب حاکم یہ فیصلہ کر دے کہ جو خود درخواست کرے گا اسے کسی عہدہ پر مامور نہ کیا جائے گا تو ان تمام باتوں کا سدِّ با ب ہو جا تا ہے۔اور گو آنحضرت ﷺ کا نفس پا ک ان عیبوں سے با لکل پا ک تھا کہ آپؐ کی نسبت یہ خیال کیا جاسکے کہ آپؐ کسی کی بات میں آجا ئیں گے مگر آپؐ نے اس طریق عمل سے مسلمانوں کے لیے ایک نہایت شاندار سڑک تیار کر رکھی ہے جس پر چل کر وہ حکومت کی بہت سی خرابیوں سے بچ سکتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس سے فا ئد ہ نہیں اٹھا یا بلکہ دوسری قوموں کی نسبت مسلمان حکومتوں میں ہی حکام کے منہ چڑھ کر لوگ بہت فا ئدہ اٹھا تے ہیں اور سفارشوں سے جو کام نکلتے ہیں لیاقت سے نہیں نکلتے۔اگر مسلمان حکام اس طرف غور کرتے تو آج اسلامی حکومتوں کا وہ حال نہ ہو تا جو ہے۔اور پھر آنحضرت ؐ جن لوگوں کی نسبت یہ احتیاط برتتے تھے ویسے لوگ بھی تو آجکل نہیں۔صحابی ؓ تو وہ تھے کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنے مال اور جا نیں بھی لٹا دیں وہ دوسروں کے اموال کی طرف کب نظر اٹھا کر دیکھ سکتے تھے۔مگر آج کل تو دوسروں کے اموال کو شِیرِ مادر سمجھا جا تا ہے۔پھر جب آنحضرت ﷺ ایسے پاک باز لوگوں کی نسبت بھی ایسے احتیاط برتتے تھے تو آج کل کے زمانہ کے لوگوں کی نسبت تو اس سے بہت زیا دہ احتیاط کی جا نی چاہیے۔