انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 555

الٰہی ہمیں دین اور دنیا کی متری عنایت فرما کیونکہ بعض دفعہ دنیا تو ملتی ہے مگر وہ بجائے فائدہ کےنقصان رساں ہو جاتی ہے۔اسی طرح دین بھی بعض لوگوں کو ملتا ہے مگر وہ اس کے ملنے کے باوجودکچھ سکھ نہیں پاتے اس لئے آپ نے دعامیں یہ الفاظ بڑھادیئے کہ الی دنیا کی بہتری ہمیں دے۔یعنی دنیا کے جس حصہ میں بہتری ہو ہمیں والے ایسا کوئی حصہ دنیا ہمیں نہ ملے جس کے ملنے سےبجائے فائدہ کے نقصان ہو اور آخرت میں بھی ہمیں بھلائی ملے نہ کہ کسی قسم کی برائی کے ہم حقدارہوں۔کسی کی درخواست پر کام سپر دنہ فرماتےلوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ امراء سے فائدہاٹھانے کے لئے ہزاروں تم کی تدابیر سے کام لیتے ہیں اور جب ان کے مزاج میں دخل پیدا ہو جاتا ہے تو اپنی منہ مانگی مرادیں پاتے ہیں اور جو کہتےہیں وہ امراء مان لیتے ہیں۔مگر آنخضرت ایسے محتاط تھے کہ آپ کے دربار میں بالکل یہ بات نہ چل سکتی تھی۔آپ کبھی کسی کے کہنے میں نہ آتے تھے اور آپ کے حضور میں باتیں بنا کر اور آپ کوخوش کر کے یا خوشامد سے با سفارش سے کام نہ چل سکتا تھا۔آپ کا طریق عمل یہ تھا کہ آپ تمام عہدوں پر ایسے ہی آدمیوں کو مقرر فرماتے تھے جن کو ان کے لائق سمجھتے تھے کیونکہ بصورت دیگرخطرہ ہو سکتا ہے کہ رعایا یا حکومت کو نقصان پینچ با خود مال کاتی دومین خراب ہو۔پس کبھی کسی عمیدپر سفارشی با درخواست سے گھی کا تقرر نہ فرماتے اور و و نظارے جو دنیاوی بادشاہوں کے درباروں میں نظر آتے ہیں و ر کار نبوت میں بالکل معدوم تھے۔حضرت ابو موسی اشعری با فرماتے ہیں أقبلت إلى النبي صلى الله عليه و سلم معی رجلان من الأشعريین فقلت ما علمت انھما يطلبان العمل فقال لن أو لا نستعمل على عملنا من ارادہ (بخاری کتاب الاجارة باب استئجار الرجل الصالح لینی میں نبی کریم ا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھ اشعری قبیلہ کے دو اور آری بھی تھے ان دونوں نے اخضرت الا سے درخواست کی کہ انہیں کوئی ملازمت دی جائے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے علم نہ تھا کہ یہ کوئی |ملازمت چاہتے ہیں۔آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ ہم اسے جو خود خواہش کرے اپنے مال میں ہر گزنہیں مقرر کریں گے یا فرمایا کہ نہیں مقرر کریں گے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب سرور کائنات کو بنی نوع انسان کی بہتری کا کتنا خیال تھا۔اللہ اللہ یا تو یہ زمانہ ہے کہ حکومتوں کے بڑے سے بڑے عہدے خود در خواست کرنے پر ملتے ہیں یا