انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 538

انوار العلوم جلد ا ۵۳۸ سيرة النبي سے نہیں ہے۔ مرغی تو خیر پھر بھی بڑا جانور ہے چڑیا تک اپنے سے کئی کئی گنے جانوروں کے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتی ہے مگر یہ اسی وقت ہوتا ہے جب وہ دیکھ لے کہ اب کوئی مفر نہیں اور میری یا میرے بچوں کی خیر نہیں۔ جب جانوروں میں اس قدر عقل ہے کہ وہ جب مصیبت اور بلا میں گھر جاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ اب سوائے موت کے اور کوئی صورت نہیں تو وہ لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتے ہیں اور حتی الوسع دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں تو انسان جو اشرف المخلوقات ہے وہ اس صفت سے کب محروم رہ سکتا ہے چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ بعض انسان جو معمولی اوقات میں نہایت بزدل اور کمزور ثابت ہوئے تھے جب کسی ایسی مصیبت میں پھنس گئے کہ اس سے نکلنا ان کی عقل میں محالات سے تھا تو انہوں نے اپنے دشمنوں کا ایسی سختی سے مقابلہ کیا کہ ان پر غالب آگئے اور جیت گئے اور ایسی جرات دکھائی کہ دوسرے مواقع میں بڑے بڑے دلیروں سے بھی نہ ظاہر ہوتی تھی۔ پس ایک جرأت وہ ہوتی ہے جو انقطاع اسباب کے وقت ظاہر ہوتی ہے اور بزدل کو بہادر اور ضعیف کو توانا اور ڈرپوک کو دلیر بنا دیتی ہے مگر یہ کوئی اعلیٰ درجہ کی صفت نہیں کیونکہ اس میں چھوٹے بڑے ادنی اور اعلیٰ سب شریک ہیں قابل تعریف جرأت وہ ہے جو ایسے اوقات میں ظاہر ہو کہ اسباب کا انقطاع نہ ہوا ہو ۔ بہت کچھ امیدیں ہوں۔ بھاگنے اور بچنے کے راستے کھلے ہوں یعنی انسان اپنی مرضی سے جان بوجھ کر کسی خطرہ کی جگہ میں چلا جائے نہ یہ کہ اتفاقاً کوئی مصیبت سر پر آپڑی تو اس پر صبر کر کے بیٹھ رہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ رسول کریم ال سے جو اس وقت جرأت کا اظہار ہوا ہے تو یہ جرأت دوسری قسم کی ہے اگر آپ اتفاقاً کہیں جنگل میں دشمن کے نرغہ میں آجاتے اور اس وقت جرأت سے اس کا مقابلہ کرتے تو وہ اور بات ہوتی اور یہ اور بات تھی کہ آپ رات کے وقت تن تنہا بغیر کسی محافظ دستہ کے دشمن کی خبر لینے کو نکل کھڑے ہوئے ۔ اگر آپ نہ جاتے تو آپ مجبور نہ تھے۔ ایسے وقت میں باہر باہر نکلنا افسروں کا کام نہیں ہوتا۔ صحابہ آپ خبر لاتے اور اگر ۔ اگر جانا ہی تھا تو آپ دوسروں کا انتظار کر سکتے تھے مگر وہ قوی دل جس کے مقابلہ میں شیر کا دل بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا اس بات کی کیا پرواہ کرتا تھا۔ شور کے سنتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر خبر لانے کو چل دیئے اور ذرا بھی کسی قسم کا ر ڈ دیا فکر نہیں کیا۔ دو سرا امر جو اس واقعہ کو ممتاز کر دیتا ہے یہ ہے کہ آپ نے ایسے وقت میں ایسا گھوڑا لیا جس پر سواری کے آپ عادی نہ تھے حالا حالانکہ ہر ایک گھوڑے پر سوار ہونا ہر ایک آدمی کا کام نہیں ہوتا۔