انوارالعلوم (جلد 1) — Page 534
و اللہ پھر کونسا عمل۔فر ما یاکہ والدین سے نیکی کر نا۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ پھر کو نسا عمل ہے۔فر ما یا کہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کو شش کرنا۔عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فر ما یا کہ مجھ سے نبی کریم ؐ نے یہ بیان فر ما یا اور اگر میں آپؐ سے اور پو چھتا تو آپؐ اور بتاتے۔بظاہر تو یہ حدیث ایک ظا ہر بین کو معمولی معلوم ہو تی ہو گی لیکن غور کر نے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپؐ کا وقار کیسا تھا کہ صحابہ ؓ آپؐ سے جس قدر سوال کیے جائیں آپؐ گھبرا تے نہ تھے بلکہ جواب دیتے چلے جا تے اور صحابہ ؓ کو یقین تھا کہ آپؐ ہمیں ڈانٹیں گے نہیں۔امراء کو ہم دیکھتے ہیں کہ ذرا کسی نے دو دفعہ سوال کیا اور چیں بجبیں ہو گئے۔کیا کسی کی مجال ہے کہ کسی بادشاہ وقت سےبار بار سوال کر تا جا ئے اور وہ اسے کچھ نہ کہے بلکہ بادشاہوں اور امراء سے تو ایک دفعہ سوال کر نا بھی مشکل ہو تا ہے اور وہ سوالات کو پسند ہی نہیں کر تے اور سوال کر نا اپنی شان کے خلاف اور بے ادبی جا نتے ہیں اور اگر کوئی ان سے سوال کر ے تو اس پر سخت غضب نازل کر تے ہیں۔اس کے مقابلہ میں ہم رسول کریم ﷺ کو جا نتے ہیں کہ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہو نے کے طبیعت میں ایسا وقارہے کہ ہر ایک چھوٹا بڑا جو دل میں آئے آپ سے پوچھتا ہے اور جس قدر چاہےسوال کر تا ہے۔لیکن آپ اس پر بالکل ناراض نہیں ہو تے بلکہ محبت اور پیار سے جواب دیتے ہیں اور اس محبت کا ایسا اثر ہو تا ہے کہ وہ اپنے دلوں میں یقین کر لیتے ہیں کہ ہم جس قدر بھی سوال کر تے جا ئیں آپ ان سے اکتا ئیں گے نہیں۔کیونکہ جو حدیث میں اوپر لکھ آیا ہوں اس سےمعلوم ہو تا ہے کہ نہ صرف اس موقع پر آپؐ اعتراضات سے نہ گھبرا ئے بلکہ آپؐ کی یہ عادت تھی کہ آپؐ دین کے متعلق سوالات سے نہ گھبرا تے تھے کیونکہ حضرت ابن مسعود ؓ فر ما تے ہیں کہ میں نے جتنے سوال آپؐ سے کیے آپؐ نے ان کا جواب دیا۔اورپھر فرماتے ہیں کہ لَوِاسْتَزَدْتُ لَزَادَ اگرمیں اورسوال کرتاتو آپؐ پھر بھی جواب دیتےاس فقرہ سے معلوم ہو تا ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ آپ جس قدر سوالات بھی کرتے جائیں آنحضرت ﷺ اس پر ناراض نہ ہوں گے بلکہ ان کا جواب دیتے جا ئیں گے اور یہ نہیں ہو سکتا تھا جب تک رسول کریم ﷺ کی عام عادت یہ نہ ہو کہ آپ ہر قسم کے سوالات کا جواب دیتے جائیں۔دیگر احادیث سے بھی معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ صحابہؓ کے سوالات پر خفا نہ ہو تے تھے بلکہ بڑی خندہ پیشا نی سے ان کے جواب دیتے تھے اور یہ آپؐ کے وقار کے اعلیٰ درجہ پر شاہد ہے کیونکہ معمولی طبیعت کا آدمی بار بار سوال پر گھبرا جا تا ہے مگر آپؐ باوجود ایک ملک کے بادشاہ ہو نے کے