انوارالعلوم (جلد 1) — Page 512
انوار العلوم جلدا ۵۱۲ سيرة النبي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ أَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا (بخاری کتاب التجد باب قيام النبي صلى الله عليه وسلم الليل ، رسول کریم نماز کے لئے کھڑے ہوا کرتے تھے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ آپ کے پ کے قدم (یا کہا) پنڈلیاں سوج جاتا جاتیں ۔ لوگ آپ سے : سے جب کہتے (کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں) تو آپ جواب دیتے کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اللہ اللہ کیا عشق ہے کیا محبت کیا پیار ہے خدا تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے تن بدن کا ہوش نہیں رہتا خون کا دوران نیچے کی طرف ہو جاتا ہے اور آپ کے پاؤں متورم ہو جاتے ہیں لیکن محبت اس طرف خیال ہی نہیں جانے دیتی آس پاس کے لوگ دیکھ کر حیران ہو جاتے ہیں کہ یہ کرتے کیا ہیں اور آپ کے درد سے تکلیف محسوس کر کے آپ کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ یہ کیا کرتے ہیں اور کیوں اپنے آپ کو اس تکلیف میں ڈالتے ہیں اور اس قدر دکھ اٹھاتے ہیں آخر کچھ تو اپنی صحت اور اپنے آرام کا بھی خیال کرنا چاہئے مگر وہ دکھ جو لوگوں کو بے چین کر دیتا ہے اور جس سے دیکھنے والے متاثر ہو جاتے ہیں۔ آپ پر کچھ اثر نہیں کرتا اور عبادات میں کچھ سستی کرنے اور آئندہ اس قدر لمبا عرصہ اپنے رب کی یاد میں کھڑے رہنا ترک کرنے کی بجائے آپ ان کی اس بات کو نا پسند کرتے ہیں اور انہیں جواب دیتے ہیں کہ کیا میں خدا کا شکر گزار بندہ نہ ہوں وہ مجھ پر اس قدر احسان کرتا ہے اس قدر فضل کرتا ہے اس شفقت کے ساتھ مجھ سے پیش آتا ہے پھر کیا اس کے اس حسن سلوک کے بدلہ میں اس کے نام کا درد نہ کروں؟ اس کی بندگی میں کو تاہی شروع کردوں۔ کیا اخلاص سے بھرا اور کیسی شکر گزاری ظاہر کرنے والا یہ جواب ہے اور کس طرح آپ کے قلب مطہر کے جذبات کو کھول کر پیش کر دیتا ہے خدا کی یاد اور اس کے ذکر کی یہ تڑپ اور کسی کے دل میں ہے۔ کیا کوئی اور اس کا نمونہ پیش کر سکتا ہے۔ کیا کسی اور قوم کا بزرگ آپ کے اس اخلاص کا مقابلہ کر سکتا ہے ؟ میں اس مضمون کے پڑھنے والے کو اس طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس عبادت کے مقابلہ میں اس بات کا خیال بھی رکھنا چاہئے کہ آپ کس طرح کاموں میں مشغول رہتے تھے اور یہی نہیں کہ رات کے وقت عبادت کے لئے اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور دن بھر سوئے رہتے کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو پھر اس شوق اور تڑپ کا پتہ نہ لگتا جو اس صورت میں ہے کہ دن بھر بھی آپ خدا تعالیٰ کے نام کی اشاعت اور اطاعت و فرمانبرداری کارواج دینے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ۔ خود پانچ اوقات میں امام ہو کر نماز پڑھاتے تھے اور دور کے جو وفود اور سفراء آتے