انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 505

فرماتے تھےاَلْحَلاَلُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَھُمَا مُشَبھاتٌ لَا یَعْلَمُھَا کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتّقَی الشُّبْھَاتِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِہٖ وَدِیْنِہٖ وَمَنْ وَقَعَ فِی الشُّبْھَاتِ کَرَاعٍ یَرْعٰی حَوْلَ الْحِمٰی یُوْ شِکُ اَنْ یُّوَاقِعَہٗ اَلَا وَاِنَّ لِکُلِّ مَلَکٍ حِمًی اَلَاوَاِنَّ حِمَی اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ مَحَارِمُہٗ اَلَاوَاِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ وَاِذَ افَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبْ(بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبر الدینہ) حلال بھی بیان ہو چکا ہےاور حرام بھی بیان ہو چکا اور ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی چیزیں ہیں کہ مشابہ ہیں انہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو کوئی شبہات سے بچے اس نے اپنی عزت اور دین کوبچا لیا اور جو کو ئی ان شبہات میں پڑ گیا اس کی مثال ایک چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی رکھ کے ارد گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے۔قریب ہے کہ اپنے جانوروں کو اندر ڈال دے۔خبردار ہر ایک بادشاہ کی ایک رکھ ہو تی ہے خبردار اللہ کی رکھ اس کی زمین میں اس کے محارم ہیں۔خبردار جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو جا ئے تو سب جسم درست ہو جا تاہے اور جب وہ خراب ہو جائے تو سب جسم خراب ہو جا تا ہے۔خبردار اور وہ گوشت کا ٹکڑا قلب ہے۔اس عبارت کو پڑھ کر معلوم ہو تا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے دل میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک دریا امڈ رہا تھا۔آپؐ دیکھتے تھے کہ ایک دنیا اس پاک ہستی کے احکام کو توڑ رہی ہے اور اس کے احکام پر عمل کر نے سے محترز ہے لوگ اپنے نفوس کے احکام کو مانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے ارشادات کی تعمیل نہیں کر تے۔پھر آپؐ کو خدا تعالیٰ سے جو محبت تھی اس کے رو سے آپؐ کب برداشت کر سکتے تھے کہ لوگ اس پیارے رب کو چھوڑ دیں۔ان خیالات نے آپؐ پر یہ اثر کیا کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی عظمت کا ذکر کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ دنیاوی بادشاہوں کی اطاعت کے بغیر انسان سکھ نہیں پا سکتا تو پھر اس قادر مطلق کی نافر مانی پر کب سکھ پا سکتا ہے جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔میں جب مذکورہ بالا حدیث کو پڑھتا ہوں تو حیران ہو تا ہوں کہ آپؐ کس جوش کے ساتھ خدا کو یاد کرتے ہیں بناوٹ سے یہ کلام نہیں نکل سکتا اس خالص محبت کا ہی نتیجہ تھا جو آپؐ خدا سے رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپؐ کو اس قدر جوش آجاتا اور آپؐ چاہتے کہ کسی طرح لوگ ان نافرمانیوں کو چھوڑ دیں او رخدا تعالیٰ کی اطاعت میں لگ جائیں۔اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہو تا ہے کہ آپؐ کو حیرت تھی کہ لوگ کیوں اس طرح دلیری سے ایسے کام کر لیتے ہیں جن