انوارالعلوم (جلد 1) — Page 505
انوار العلوم جلد ا ۵۰۵ سيرة النبي ال فرماتے تھے الْحَلَالُ بَيِّنَ وَالْحَرَامَ بَيِّنَ وَبَيْنَهُما مُشَبَهاتٌ لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقَدِا تِ فَقَدِ اسْتَبْرَأَلِعِرْ ضِهِ وَ دِينِهِ وَ مَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ كَرَاعٍ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ أَلَا وَ إِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمَى أَلَا وَ وَ إِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي أَرْضِهِ مَحَارِمُهُ إِلَّا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلُحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ لهُ أَلاَ وَهِيَ الْقَلْبُ ): بخاری کتاب الایمان باب فضل من استبر الدينه حلال بھی بیان ہو چکا ہے اور حرام بھی بیان ہو چکا اور ان دونوں کے درمیان کچھ ایسی چیزیں ہیں کہ مشابہ ہیں انہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو کوئی شبہات سے بچے اس نے اپنی عزت اور دین کو بچالیا اور جو کوئی ان شبہات میں پڑ گیا اس کی مثال ایک چرواہے کی ہے جو بادشاہ کی رکھ کے ارد گرد اپنے جانوروں کو چراتا ہے قریب ہے کہ اپنے جانوروں کو اندر ڈال دے۔ خبردار ہر ایک بادشاہ کی ایک رکھ ہوتی ہے خبردار اللہ کی رکھ اس کی زمین میں اس کے محارم ہیں۔ خبردار جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو و جائے جائے تو تو سب جسم درست ہو جاتا ہے ہے ! اور جب وہ خراب خراب ہو ہو جائے تو سب جسم خراب ہو جاتا ہے۔ خبردار اور وہ گوشت کا ٹکڑا قلب ہے۔ اس عبارت کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم اس کے دل میں اس وقت اللہ تعالیٰ کی محبت کا ایک دریا اٹھ رہا تھا۔ آپ دیکھتے تھے کہ ایک دنیا اس پاک ہستی کے احکام کو توڑ رہی ہے اور اس کے احکام پر عمل کرنے سے محترز ہے لوگ اپنے نفوس کے احکام کو مانتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے ارشادات کی تعمیل نہیں کرتے۔ پھر آپ کو خدا تعالی سے جو محبت تھی اس کے رو سے آپ کب برداشت کر سکتے تھے کہ لوگ اس پیارے رب کو چھوڑ دیں۔ ان خیالات نے آپ پر یہ اثر کیا کہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی عظمت کا ذکر کرتے اور لوگوں کو بتاتے کہ دنیاوی بادشاہوں کی اطاعت کے بغیر انسان سکھ نہیں پاسکتا تو پھر اس قادر مطلق کی نافرمانی پر کب سکھ پا سکتا ہے جو سب بادشاہوں کا بادشاہ ہے ۔ میں جب مذکورہ باند کورہ بالا حدیث کو پڑھتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں کہ آپ کس جوش کے ساتھ خدا کو یاد کرتے ہیں بناوٹ سے یہ بناوٹ سے یہ کلام نہیں نکل سکتا اس خالص محبت کا ہی نتیجہ تھا جو آپ خدا سے رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپ کو اس قدر جوش آجاتا اور آپ چاہتے کہ کسی طرح لوگ ان نافرمانیوں کو چھوڑ دیں اور خدا تعالیٰ کی اطاعت میں لگ جائیں۔ اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو حیرت تھی کہ لوگ کیوں اس طرح دلیری سے ایسے کام کر لیتے ہیں جن