انوارالعلوم (جلد 1) — Page 501
کو شکست دی۔مسیلمہ رسول کریم ؐکی زندگی میں ایک لشکر جرار لے کر آپ کے پاس مدینہ میں آیا اور آپ سے اس بات کی درخواست کی کہ اگر آپؐ اسے اپنے بعد خلیفہ بنا لیں تو وہ اپنی جماعت سمیت آپ کی اتباع اختیار کر لے گا اور اسلام کی حالت چاہتی تھی کہ آپ اس ذریعہ کو اختیار کر لیتے اور اس کی مدد سے فائدہ اٹھا لیتے لیکن جس پاک وجود کو خدا تعالیٰ کی طاقت پر بھروسہ اور توکل تھا اور وہ انسانی منصوبوں کی ذرہ بھر بھی پروا نہ کر سکتا تھا آپ نے اس کی در خواست کو فوراً رد کر دیا۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:قَدِمَ مُسَیْلِمَۃُ الْکَذَّابُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ یَقُوْلُ اِنْ جَعَلَ لِیْ مُحَمَّدٌ اَلْاَمْرَ مِنْ بِعْدِہٖ تَبِعْتُہُ وَقَدِمَھَا فِیْ بَشَرٍکَثِیْرٍ مِنْ قَوْمِہٖ فَاَقْبَلَ اِلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَعَہٗ ثَابِتُ ابْنُ قَیْسٍ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِیْ یَدِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قِطْعَۃُ جَرِیْدٍ حَتّٰی وَقَفَ عَلیٰ مُسَیْلَمَۃَ فِیْ اَصْحَابِہٖ فَقَالَ لَوْ سَاَلْتَنِیْ ھٰذِہِ الْقِطْعَۃَ مَا اَعْطَیْتُکَھَا وَلَنْ تَعْدُ وَاَمْرَاللّٰہِ فِیْکَ وَلَئِنْ اَدْبَرْتَ لَیَعْقِرنَّکَ اللّٰہُ وَاِنَّیْ لَاَرَاکَ الَّذِیْ اُرِیْتُ فِیْہِ مَا رَاَیْتُ وَھٰذَا ثَا بِتٌ یُجِیْبُکَ عَنِّیْ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْہُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَالْتُ عَنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّکَ اَرَی الَّذِیْ اُرِیْتُ فِیْہِ مَا رَاَیْتُ فَاَخْبَرَ نِیْ اَبُوْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَیْنَا اَنَا نَائِمٌ رَاَیْتُ فِیْ یَدِیْ سَوَارَ یْنَ مِنْ ذَھَبٍ فَاَھَمَّنِیْ شَاْنُھُمَا فَاُ وْحِیَ اِلَیَّ فِی الْمَنَا مِ اَنْ اَنْفُخَھُمَا فَنَفَخْتُھُمَا فَطَارَا فَاَوَّلْتُھُمَا کَذَّابَیْنِ یَخْرُجَانِ بَعْدِیْ اَحَدُھُمَا العَنْسِیُّ وَالْاٰ خَرُ مُسَیْلِمَۃُ۔(بخاری کتاب المغاذی باب وفدبنی حنیفۃ و حدیث ثما مۃ بن اُثال ) رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب آیا اور کہنے لگا کہ اگر محمد ﷺ اپنے بعد مجھے حاکم مقرر کر دیں تو میں ان کا متبع ہو جاؤں اور اس وقت وہ اپنے سا تھ اپنی قوم میں سے ایک جماعت کثیر لا یا تھا۔رسول کریمؐ یہ بات سن کر اس کی طرف آئے اور ثابت ابن قیس ابن شماس رضی اللہ عنہ آپؐ کے سا تھ تھے اور رسول کریم ؐ کے ہا تھ میں کھجور کی ایک شاخ کا ٹکڑا تھا۔آپؐ آئے یہاں تک کہ مسیلمہ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور وہ اپنے ساتھیوں میں بیٹھا تھا۔آپؐ نے فر ما یا کہ اگر تو مجھ سے یہ شاخ بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں اور جو کچھ خد انے تیرے لیے مقدر کیا ہے تو اس سے آگے نہیں بڑھے گا اور اگر تو پیٹھ پھیر کر چلا جائےگا تو اللہ تیری کو نچیں کاٹ دے گا او رمیں تو تجھے