انوارالعلوم (جلد 1) — Page 499
3 انوار العلوم جلدا ۴۹۹ سيرة النبي رسول کریم کی جائداد نہ صرف یہ کہ رسول کریم نے اپنی اولاد کو صدقہ سے محروم کر دیا کی بلکہ خود بھی کوئی ایسی جاندار نہیں چھوڑ جس سے آپ کے بعد آپ کی بیویوں اور اولاد کی پرورش اور گزارہ کا انتظام ہو سکتا۔ ممکن تھا کہ یہ خیال کر لیا جا تا کہ گو آپ نے اپنی آل کیلئے ہمیشہ کے لئے کوئی سامان نہیں مہیا کیا لیکن اپنے موجودہ رشتہ ہ رشتہ داروں کے لئے کوئی سامان کر دیا ۔ لیکن مایہ یہ بھی نہیں ہوا۔ ہوا ۔ اور اور جس جس وقت وقت فوت فوت ہوئے ہوئے ہیں اس وقت آپ آر کے گھر میں کوئی روپیہ نہیں تھا۔ عمرو بن حرث فرماتے ہیں مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ دِرْ هَمَا وَلَا دِيْنَارًا وَلَا عَبْدًا وَلَا اَمَةً وَلَا شَيْئًا إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ وَسِلَاحَةَ وَأَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَة (بخاری کتاب الوصايا ) رسول کریم ال نے اپنی وفات کے وقت کچھ نہیں چھوڑا نہ کوئی درہم نہ دینار نہ غلام نہ لونڈی اور نہ کچھ اور چیز سوائے اپنی سفید خچر اور اپنے ہتھیاروں کے اور ایک زمین کے جسے آپ صدقہ میں دے چکے تھے ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کی حیثیت ایک بادشاہ کی تھی اور آپ چاہتے تو اپنے رشتہ داروں کے لئے سامان کر سکتے تھے اور کم سے کم اس اس قدر روپیہ چھوڑ جانا تو آپ آپ کے لئے کچھ مشکل نہ تھا کہ جس سے آپ کی بیویوں اور اولاد کا گزارہ ہو سکے ۔ آپ کے پاس صرف خزانہ کا روپیہ ہی نہ رہتا تھا کہ جس کا اپنی ذات پر خرچ کرنا آپ گناہ تصور فرماتے تھے اور اس کا ایک حبہ بھی آپ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ خود آپ کی ذات کے لئے بھی آپکے پاس بہت مال آتا تھا اور صحابہ ر صحابہ " اس اخلاص اور عشق کے سبب جو انہیں آپ سے تھا بہت سے تحائف پیش کرتے رہتے تھے اور اگر آپ اس خیال سے کہ میرے بعد میرے رشتہ دار کس طرح گزارہ کریں گے ایک رقم جمع کر جاتے تو کر سکتے تھے لیکن آپ کے وسیع دل میں جو خدا تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال کا جلوہ گاہ تھا۔ جو یقین و معرفت کا خزانہ تھا یہ دنیاوی خیال سما بھی نہیں سکتا تھا۔ جو کچھ آتا آپ اسے غرباء میں تقسیم کر دیتے اور اپنے گھر میں کچھ بھی نہ رکھتے حتی کہ آپ کی وفات ۔ وفات نے ثابت کر دیا کہ وہ خدا کا بندہ جو دنیا سے نہیں بلکہ خدا سے تعلق رکھتا تھا د نیاری م آلائشوں سے پاک اپنے بھیجنے والے کے پاس چلا گیا۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ رسول کریم ﷺ کی نہایت پیاری بیٹی موجود تھیں اور ان کی آگے اولاد تھی اور ر اولاد کی اولاد اپنی ہی اولاد ہوتی ہے مگر آپ نے نہ کوئی مال اپنی بیویوں کے لئے چھوڑا اور نہ اولاد کے لئے۔