انوارالعلوم (جلد 1) — Page 483
ורי انوار العلوم جلدا ۲۸۳ سيرة النبي الله کچھ کام نہ کرتا اسی طرح دن گزرتے رہے اور لوگوں نے محنت سے سامان سفر تیار کر لیا یہاں تک کہ رسول کریم اور مسلمان ایک صبح روانہ بھی ہو گئے اور ابھی میں نا تیار تھا پھر میں نے کہا کہ اب میں ایک دو دن میں تیاری کر کے آپ سے جاملوں گا۔ ان کے جانے کے بعد دوسرے دن بھی میں گیا مگر بغیر تیاری کے واپس آگیا او اسی طرح تیسرے دن بھی میرا یہی حال رہا اور ادھر لشکر جلدی جلدی آگے نکل گیا۔ میں نے کئی بار ارادہ کیا کہ جاؤں اور ان سے مل جاؤں اور کاش میں ایسا ہی کرتا مگر مجھ سے ایسا نہ ہو سکا۔ پھر جب رسول کریم کے جانے کے بعد میں باہر نکلتا اور لوگوں میں پھر تا تو مجھے یہ بات دیکھ کر سخت صدمہ ہوتا کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے یا تو وہ تھے جو منافق سمجھے جاتے تھے یا دہ ضعفاء جن کو خدا نے معذور رکھا تھا رسول کریم ﷺ نے اس وقت تک مجھے یاد نہیں کیا جب تک کہ تبوک نہ پہنچ گئے ۔ وہاں آپ نے پوچھا کہ کعب بن مالک کہاں ہے ؟ بنی سلمہ کے ایک آدمی (عبد اللہ بن انیس) نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ اپنے حسن و جمال (یا لباس کی خوبی) پر اترا کر رہ گیا ( آپ کے ساتھ ساتھ نہیں آیا یہ سن کر معاذ بن جبل بنی اللہ نے کہا تو نے بری بات کسی خدا کی قسم یا رسول اللہ ہم تو اس کو اچھا آدمی (سچا مسلمان) سمجھتے ہیں۔ آنحضرت ا خاموش ہو رہے ۔ کعب بن مالک بنی اللہ کہتے ہیں کہ جب یہ خبر آئی کہ آنحضرت ا تبوک سے لوٹے آرہے ہیں تو میرا غم تازہ ہو گیا۔ جھوٹے جھوٹے خیال دل میں آنے لگے ( یہ عذر کروں وہ عذر کروں) مجھ کو یہ فکر ہوئی کعب اب کل آپ کے غصے سے تو کیونکر بچے گامیں نے اپنے عزیزوں میں سے جو جو عقل والے تھے ان سے بھی مشورہ لیا۔ جب یہ خبر آئی کہ آپ مدینہ کے قریب آن پہنچے اس وقت سارے جھوٹے خیالات میرے دل سے مٹ گئے اور میں نے یہ سمجھ لیا کہ جھوٹی باتیں بنا کر میں آپ کے غصے سے بچنے والا نہیں ۔ اب میں نے یہ ٹھان لیا (جو ہو نا ہو وہ ہو) میں تو سچ سچ کہہ دوں گا خیر صبح کے وقت آپ مدینہ میں داخل ہوئے آپ کی عادت تھی جب سفر سے تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں جاتے وہاں ایک دوگانہ ادا فرماتے ) آپ نے دوگانه ادا فرماتے ( آپ نے مسجد میں دوگانہ ادا فرمایا) پھر لوگوں سے ملنے کے لئے بیٹھے اب جو جو (منافق) لوگ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے آنا شروع کیا اور لگے اپنے اپنے عذر بیان کرنے اور تمیں کھانے۔ ایسے لوگ اسی (۸۰) سے کچھ اوپر تھے آپ نے ظاہر میں ان کا عذر مان لیا ان سے بیعت لی ان کے واسطے دعا کی ان کے دلوں کے بھید کو خدا پر رکھا۔ کعب کہتے ہیں میں بھی آیا میں نے جب آپ کو سلام کیا تو آپ مسکرائے مگر جیسے غصے میں کوئی آدمی مسکراتا ہے پھر فرمایا آؤ میں گیا۔ آپ کے سامنے بیٹھ گیا آپ نے پوچھا کعب تو کیوں پیچھے رہ گیا تو نے تو سواری بھی