انوارالعلوم (جلد 1) — Page 484
خریدلی تھی۔میں نے عرض کیا بے شک اگر کسی دنیا دار شخص کے سامنے میں اس وقت بیٹھا ہو تا تو با تیں بنا کر اس کے غصے سے بچ جا تا۔میں خوش تقریر بھی ہوں مگر خدا کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر آج میں جھوٹ بول کر آپؐ کو خوش کرلوں تو کل اللہ تعالیٰ (اصل حقیقت کھول کر)پھر آپ کو مجھ پر غصے کر دے گا ( اس سے فائدہ ہی کیا ہے) میں سچ ہی کیوںنہ بولوں گو آپؐ اس وقت سچ بولنے کی وجہ سے مجھ پر غصہ کریں گے مگر آئندہ اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی مجھ کو امید تو رہے گی۔خدا کی قسم!(میں سراسرقصور وار ہوں) زور،طاقت، قوت،دولت سب میں کوئی میرے برابر نہ تھا اور میں یہ سب چیزیں ہو تے ہو ئے پیچھے رہ گیا یہ سن کر آنحضرت ﷺ نے فر مایا۔کعب نے سچ سچ کہہ دیا کعب اب ایسا کر تو چلا جا جب تک اللہ تعالیٰ تیرے باب میں کو ئی حکم نہ اتارے۔میں چلا۔بنی سلمہ کے کچھ لوگ اٹھ کر میرے پیچھے ہوئے اور کہنے لگے خدا کی قسم ہم کو تو معلوم نہیں کہ تو نے اس سے پہلے بھی کو ئی قصور کیاہو۔تو نے اور لوگوں کی طرح جو پیچھے رہ گئے تھےآنحضرت ﷺ سے کو ئی بہانہ کیوں نہ کر دیا ؟ اگر تو بھی کو ئی بہانہ کر تا تو آنحضرت ﷺ کی دعا تیرے قصور کے لیے کا فی ہو جا تی۔وہ برابر مجھ کو لعنت ملامت کرتے رہے۔قسم خدا کی ان کی با توں سے پھر میرے دل میں آیا کہ آنحضرتؐ کے پاس لوٹ کر چلوں اور اپنی اگلی بات(گناہ کے اقرار)کو جھٹلاکر کو ئی بہا نہ نکالوں۔میں نے ان سے پوچھا۔اچھا اور بھی کوئی ہے جس نے میری طرح قصور کا اقرار کیا ہو۔انہوں نے کہا ہاں دو اور بھی ہیں انہوں نے بھی تیری طرح گناہ کا اقرار کیا ہے ان سے بھی آنحضرت ﷺ نے یہی فرمایا ہے جو تجھ سے فر مایا ہے۔میں نے پوچھا وہ دو شخص کون کون ہیں انہوں نے کہا مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہّ واقفی۔انہوں نے ایسے دو نیک شخصوں کا بیان کیا جو بدر کی لڑا ئی میں شریک ہو چکے تھے اور جن کے سا تھ رہنا مجھ کو اچھا معلوم ہوا۔خیر جب انہوں نے ان دو شخصوں کا نام بھی لیا(تو مجھ کو تسلّی ہو ئی)میں چل دیا۔آنحضرتﷺ نے تمام مسلمانوں کو منع کر دیا خاص کر ہم تینوں آدمیوں سے کو ئی بات نہ کرے اور دوسرے لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے(جنہوں نے جھوٹے بہانے کیےتھے)ان کے لیے یہ حکم نہیں دیا۔اب لوگوں نے ہم سے پر ہیز شروع کیا(کوئی بات تک نہ کرتا) بالکل کورے ہوگئے(جیسے کو ئی آشنا ئی ہی نہ تھی)ایسے ہی پچاس را تیں(اسی پر یشان حالی میں) گزریں۔میرے دونوں ساتھی(مرارہؓ اور ہلالؓ)تو روتے پیٹتے اپنے گھروں میں بیٹھ رہے اورمیں جو ان مضبوط آدمی تھا تو(مصیبت پر صبر کرکے)باہر نکلتا نماز کی جماعت میں شریک ہو تا بازاروں میں گھومتا رہتا مگر کو ئی شخص مجھ سے بات نہ کر تا۔میں آنحضرت ﷺ کے پاس بھی آتا۔آپؐ نماز پڑھ کر اپنی جگہ پر بیٹھے