انوارالعلوم (جلد 1) — Page 475
انوار العلوم جلدا ۴۷۵ سيرة النبي مؤمن انسان کا کام اس کے بالکل بر خلاف ہونا چاہیے اور اسے اخلاق کا اعلیٰ نمونہ اپنے معاملات میں دکھانا چاہئے اور حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے کہ بہت سے موقعوں پر چشم پوشی سے ہی کام لے اور جب تک عفو سے کام نکل سکتا ہو اور اس کا خراب نتیجہ نہ نکلتا ہو اسے ترک نہ کرے لیکن دین کے معاملہ میں قطعا بے غیرتی کا اظہار نہ کرے اور ایسے تمام مواقع جن میں دین کی ہتک ہوتی ہو ان سے الگ رہے اور ایسی تمام مجلسوں اور صحبتوں سے پر ہیز کرے کہ جن میں دین کی ہتک اور اس سے ٹھٹھا ہوتا ہو اور دین پر جس قدر اعتراض ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کرے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو معلوم ہو گا کہ وہ خدا تعالیٰ کی قدر سیت قائم کرنے کی نسبت اپنے نفس پر اعتراضات دور کرنے کے لئے زیادہ کوشاں رہتا ہے اور جتنا اسے اپنی صفائی کا خیال ہے اتنا خدا تعالیٰ اور دین حق کی تنزیہ کا خیال نہیں۔ رسول کریم ﷺ کی زندگی اس معاملہ میں بھی عام انسانوں سے بالکل مختلف ہے اور آپ بجائے اپنے نفسانی معاملات اور اور ذاتی تکالیف پر اظہار غضب و غصہ کے نہایت ملائمت اور نرمی سے کام لیتے اور اگر کوئی اعتراض کرتا تو اس پر خاموش رہتے اور جب تک خاموشی سے نقصان نہ پہنچتا ہو کبھی ذب اعتراضات کی طرف توجہ نہ کرتے مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں آپ بڑے باغیرت تھے اور یہ کبھی برداشت نہ کر سکتے تھے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی ہتک کرے اور جب کوئی ایسا موقع پیش آتا آپ فورا اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرتے یا اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ کے احکام سے لاپرواہی کرتا تو اسے سخت تنبیہ کرتے۔ حضرت براء بن عازب بنیاد سے روایت ہے فرمایا کہ جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرِّجَالَةِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكَانُوا خَمْسِينَ رَجُلاً عَبْدَ اللهِ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنْ رَا إِنْ رَأَيْتُمُونَا تَخْطَفُنَا الطَّيْرُ فَلَا تَبْرَحُوا مَكَانَكُمْ هُذَا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ وَإِنْ رَأَيْتُمُوْنَا هَزَمْنَا الْقَوْمَ وَأَوْطَأْنَا هُمْ فَلَا تَبْرَحُوْا حَتَّى أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ فَهَزَ مُوْهُمْ قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ رَأَيْتُ النِّسَاءَ يَشْتَدِدْنَ قَدْ بَدَتْ خَلاَ خِلُهُنَّ وَاسْوُ قُهُنَّ رَافِعَاتٍ ثِيَا بَهُنَّ فَقَالَ أَصْحَابُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُبَيْرِ الْغَنِيمَةَ أَى قَوْمِ الْغَنِيمَةَ ظَهَرَ أَصْحَابُكُمْ فَمَا تَنْتَظِرُونَ فَقَالَ عَبْدًا اللَّهِ بْنُ جُبَيْرٍ أَنَسِيْتُمْ مَا قَالَ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوْا وَاللَّهِ لَنَاتِيَنَّ النَّاسَ فَلَنُصِيبَنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ فَلَمَّا أَتَوْ أَتَوْهُمْ صُرِفَتْ و فَتْ وُجُوهُهُمْ فَاقْبَلُوا مُنْهَزِ مِينَ فَذَكَ إِذْ يَدْعُوَ هُمُ الرَّسُولُ فِي أُخْرًا هُمْ فَلَمْ يَبْقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ