انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 474 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 474

دھو دے اور میرے دل کو ایسا صاف کر دے کہ جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل سے صاف کر دیا ہے اور مجھ میں اور گناہوں میں اتنا فاصلہ حائل کر دے جتنا تو نے مشرق و مغرب میں رکھا ہے۔اے وہ انسان جسے رسول کریم ﷺ سے عداوت ہے تو بھی ذرا اس دعا کو غور سے پڑھا کر اور دیکھ کہ وہ گناہوں سے کس قدر متنفر تھے۔و ہ بدیوں سے کس قدر بیزار تھے۔وہ کمزوریوں سے کس طرح بری تھے۔وہ عیبوں سے کس قدر پا ک تھے اور ان کا دل خشیت الٰہی سے کیسا پر تھا فَتَدَ بَّرْ وَاھْتَدِ بِھُدُ اہُ۔غیرت ِدینی اس بات کے بتا نے کے بعد کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی اور آپ کا ہر فعل خشیت الٰہی کی ایک زندہ مثال ہے میں آپؐ کی غیرت دینی کے متعلق کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔بہت سے لوگ اعلیٰ سے اعلیٰ اخلاق کے نمونے دکھا تے ہیں مگر یہ اخلاق اسی وقت تک ظا ہر ہو تے ہیں جب تک انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ذرا ان کے منشاکے خلاف کو ئی بات ہو اور ان کی آنکھیں لال پیلی ہو جا تی ہیں اور منہ سے جھاگ آنی شروع ہو جا تی ہے۔اور اگر اشارۃً بھی کو ئی انہیں ایسی بات کہہ بیٹھے جس میں وہ اپنی ہتک سمجھتے ہوں تو وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے بلکہ ہر ممکن سے ممکن طریق سے اس کا بدلہ لینے کی کو شش کر تے ہیں اور جب تک مد مقابل سے بدلہ نہ لے لیں انہیں چین نہیں آ تا۔مگر انہیں لو گوں کو دیکھا جا تا ہے کہ جب خدا اور رسول کی کوئی ہتک کر تا ہے تو اسے بڑی خوشی سے سنتے ہیں اورا ن کو وہ قطعًا بری نہیں معلوم ہو تی اور ایسی مجلسوں میں اٹھنا بیٹھنا نا پسند نہیں کر تے جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ کسی وقت ان سے بھی کو ئی غلطی ہو جا تی ہے اور اس طرح ان کا دین برباد ہو جا تا ہے۔جتنے اخلاق اخلاق اور تہذیب تہذیب پکا رنے والے لوگ ہیں ان کی زندگیوں کا مطالعہ کرکے دیکھ لو ضرور ان میں یہ بات پا ئی جا ئے گی کہ دوسروں کے معاملہ میں اور خصوصًا دین کے معاملہ میں غیرت کے اظہار کو وہ بد خلقی اور بد تہذیبی قرار دیتے ہیں مگر اپنے معاملہ میں ان کا معیار ِ اخلاق ہی اور ہے اور وہاں اعلیٰ اخلاق سے کام لینا ان کے لیے ناممکن ہو جا تا ہے۔