انوارالعلوم (جلد 1) — Page 468
انوار العلوم جلدا ۴۶۸ سيرة النبي ال فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کو اس کا عمل جنت میں نہیں داخل کرے گا۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ" کیا آپ بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گے آنحضرت اللہ نے جواب دیا کہ میں بھی اپنے اعمال کے زور سے جنت میں داخل نہ ہوں گا بلکہ خدا کا فضل اور اس کی رحمت مجھے ڈھانپ لیں گے تو میں جنت میں داخل ہوں گا اس لئے تم نیکی کرو اور سچائی سے کام لو اور خدا کی نزدیکی کو تلاش کرو اور تم میں سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو شاید وہ نیکی میں اور ترقی کرے اور اگر بد ہے تو شاید اس کی توبہ قبول ہو جائے اور اسے خدا کی رضاء کے حاصل کرنے کا موقع مل جائے ۔ اس حدیث سے رسول کریم لال کی خشیت کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے خدا تعالیٰ کی قدرت، بڑائی اور جلال کا کیسا صحیح اندازہ لگایا تھا اور کس طرح آپ کے دل پر حقیقت منکشف تھی کہ آپ ان اعمال کے ہوتے ہوئے بھی اس بادشاہ کی غناء سے ایسے خائف تھے کہ فرماتے کہ خدا کا فضل ہی ہو تو نجات ہو ورنہ اس کے فضل کے بغیر نجات کیونکر ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ اسلام نجات کو اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے فضل کا نتیجہ قرار دیتا ہے ہاں اعمال صالحہ خدا کے فضل کے جاذب ہوتے ہیں اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ نجات خدا کے فضل سے ہے اس لئے تم نیکی اور تقولٰی سے کام لو معلوم ہوا کہ نیکی اور اعمال صالحہ فضل کے جاذب ہیں چنانچہ ایک دوسری حدیث میں اس کی اور تشریح ہو جاتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ہی اس ۔ اس ۔ حدیث کے بھی رادی ہیں اور اس میں انہوں نے پہلی حدیث سے اتنا زیادہ بیان فرمایا ہے وَاغْدُوا وَرُوحُوا وَ شَيْءٍ مِّنَ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا (بخارى كتاب الرقاق باب القصد والمداومة على العمل العنی خدا کے فضل کے سوا نجات نہیں اس لئے صبح کے وقت عبادت کرو اور شام کے وقت بھی اور کچھ رات کے وقت بھی اور خوب قصد کرو۔ پوری طرح سے قصد کرد - جنت میں پہنچ جاؤ گے اس۔ حدیث سے صاف کھل جاتا ہے کہ اپنے اعمال کو فضل کا جاذب قرار دیا ہے۔ لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر جرات کرتے ہیں اور خدا کا خوف ان کے دلوں استغفار کی کثرت میں پیدا نہیں ہوتا اور ایسے سنگدل ہو جاتے ہیں کہ کبھی ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا نہیں ہو تا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد نہ بن جائیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے میں نے ایک شخص سے ذکر کیا کہ تم تو بہ واستغفار کیا کرو اور نیکی میں ترقی کرو اس نے مجھے جواب دے دے دیا کہ