انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 20

یعنی انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہے اور وہ درد جوکہ محبت کا لازمی نتیجہ ہے اس کی باریک ٹیس سے ایک خاص لذت اٹھائے ورنہ تابعداری اور اطاعت کے لئے فرشتے موجو وہی تھے۔اب دیکھنا چاہئے کہ وہ اختیارات جو انسان کو دیئے گئے ہیں وہ کسی اور مخلوق کو نہیں دیئے گئے فرشتہ ایک مخلوق ہے کہ جس کا خدا تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بہت ذکر کیا ہے اور جن کی معرفت خدا تعالیٰ اکثر اپنے بندوں پر اپنا کلام نازل فرماتا ہے میں نے اکثراس لئے کہا ہے کہ بزرگ اور اولیاء اس بات کے بھی قائل ہیں کہ بلا کسی وسیلہ کے بھی خدا کا کلام انسان پر نازل ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ خدا تعالیٰ اپنے کسی بندہ پر خاص طور سےمہربان ہو تا ہے جیسا کہ نبی کریمﷺ ایک ایسا نمونہ موجود ہیں کہ چو ہر وقت ہماری نظروں کےسامنے موجود ہے اور اگرچہ وہ فوت ہو گئے ہیں مگر پھر بھی ان کے معجزات نشانات اور پیشگوئیاں جوکہ ہر زمان اور ہر مکان میں پوری ہو رہی ہیں ایک ایسی حجت ہے کہ جو ہر وقت ہمارے سامنے نبی کریم ﷺ کا زنده و جود پیش کرتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺسے بلا کسی وسیلہ کے خدا تعالیٰٰ نے کلام کیا۔جیسا کہ معراج کے موقعہ پر اور دیگر بہت سے موقعوں پر اور یہی نہیں آپﷺ تو بڑی شان کے آدمی تھے۔آپ کے ادنی غلاموں پر خدا تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ایسی شفقت فرمائی ہےکہ ان سے اس طرح بلا وسیلہ مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے۔میں اس وقت یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ فرشتہ باوجود اسی مقرب الہی مخلوق ہونے کے اس نعمت سے محروم ہے کہ اس کے دل میں محبت پیدا ہو(محبت وہ چیز ہے جو کہ خود بخود ایک مخلوق کے دل میں پیدا ہو ) اور فرشتہ جو خدا تعالیٰ کی تسبیح و تقدیں کرتا ہے تو وہ بھی ارادہ سے نہیں کرتا بلکہ اس کی خلقت میں ایسار کھا گیا ہے او راس کے بر خلاف نہیں کر سکتا مگر انسان بسا اوقات خدا تعالیٰ سے نفرت بھی کرتا ہے جیسا کہ دہریہ وغیرہ کیونکہ وہ اس ہستی کو مانتے ہی نہیں اور سرے ہی سے اس کا انکار کرتے اور لغو بیہودہ قرار دیتے ہیں۔پس انسان کی محبت خدا سے اور فرشتہ کی محبت خدا سے ایک فرق رکھتی ہے۔انسان ایک ارادہ اور خواہش سے اور محبت سے خدائی تعلق کرتا ہے تو فرشتہ بلا ارادہ اور محبت کے پس وہ تعلق اتنا قابل قدر نہیں جو کہ بلا کسی محبت کے ہو بلکہ وہ جو کہ ارادہ اور اختیار سے ہو زیادہ قابل قدر ہے اور یہ موخرالذکر تعلق صرف ایک انسان کو ہی نصیب ہے اور باقی مخلوقات پہلی قسم کا تعلق رکھتی ہے۔یعنی انسان تو بعض دفعہ اپنے اسی اختیار کو جو کہ اس کو خدا تعالیٰ نے عنایت کیا ہے کام میں لا کر اس سےقطع تعلق کرلیتا ہے۔گو یہ کام کیسا ہی ہو اور اس کا نتیجہ کتنا ہی خطرناک ہو مگر ایسا واقعہ تو ہوتا ہے کہ ایک انسان خدا سے اپنا تعلق توڑ بیٹھا اور راندہ درگاه الٰہی ہو گیا۔مگر اس کے بر خلاف |********** Individual Book PDF Page 4 Single PDF Page 20 of 643 Vol Printed Page 21 **********|| دوسری مخلوق ایسا نہیں کر سکتی اور نہ ان میں یہ طاقت اور قوت ہے صرف انسان کو ہی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ دیکھتا ہے اور سوچتا ہے پھر اس کے بعد جو اس کی ضمیر فیصلہ کرتی ہے اس پر عمل کرتا ہے خواہ تواپنے برے اعمال کی وجہ سے اس طرف میلان کرے کہ جس طرف رجوع کرنے سے وہ ہمیشہ کیلئے تباہ ہو جائے اور یا اسی راہ کو اختیار کرے کہ خدا کے فضل سے منزل مقصود تک پہنچ جائے اور یہ خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام قرآن مجید میں فرماتا ہے اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ-اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا (احزاب : ۳ ۷) یعنی ہم نے اپنی امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی پس انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور ڈرے مگر انسان نے اس کو اٹھالیا۔تحقیق انسان ظالم اور جاہل ہےاس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنی امانت یعنی محبت کو آسمانوں کے رہنے والوں یعنی فرشتوں اور زمین کے حیوانات اور پہاڑوں کے جانداروں پر پیش کیا مگر وہ اس کے اٹھانے سے ڈرے اور انکار کر دیا مگر انسان نے جو کہ ظالم اور جاہل ہے اس کو اٹھا لیا اور محی الدین ابن عربی صاحبؒ جو کہ ائمہ اسلام میں سے گزرے ہیں فرماتے ہیں کہ اس جگہ پر انسان کی تعریف ہے مذمت نہیں اور ظالم اور جاہل کے الفاظ جو کہ بظاہربرے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اس جگہ پر تعریف کے طور پر استعمال ہوئے ہیں اور وہ اس طرح ہے کہ ظالم سے مراد ہے کہ انسان اپنی جان پر ظلم کرسکتا ہے اور ان مصیبتوں اور تکلیفوں کو برداشت کر سکتا ہے جو کہ خدا کی محبت میں اس کو پیش آویں۔اور جاہل اس لئے کہ اس نے ان تکالیف اور شدائد کی بابت سوچا بھی نہیں جو اس کو اس راہ میں پیش آسکتی تھیں۔اور دوسرے حیوانات نے دور اندیشی سے اس سے انکار کردیا اور گو کہ اس جگہ انسان نے دور اندیشی سے کام نہیں لیا لیکن یہ اس کی تعریف ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ کی محبت کو ایک پیاری اور عمدہ چیز دیکھ کر کسی اور بات کا خیال بھی نہیں کیا۔اور وه بو جھ جس کا اٹھانادوسروں نے ناپسند کیا تھا اس کو برضاورغبت اٹھالیا۔اور اسی لئے ہے کہ جب انسان اپنے عہد اوراقرار کو پورا کرتا اور خدا کی محبت میں اپنے آپ کو باوجود سخت سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کےثابت قدم رکھتا ہے تو اس پر اس قدر انعام اور اکرام ہوتے ہیں جو کہ کسی اور مخلوق پر نہیں ہوتے۔پس یہ بات ثابت ہے کہ انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو کہ محبت کرنے کیلئے پیدا کی گئی ہے۔اورجس میں ایک طاقت رکھی گئی ہے کہ وہ اپنے خیال میں اپنے نفع یا نقصان کو سوچ سمجھ کر ایک چیز سے