انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 19

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم محبتِ الٰہی محبت کیا ہے ؟ بعض کہتے ہیں کہ محبت ایک خیال ہے اور بعض کا قول ہے کہ محبت ایک جذبہ ہے۔لیکن میرا خیال ہے کہ محبت ایک اور ہی چیز ہے جو کہ انسان کی پیدائش کے وقت جبکہ وہ پہلاسانس لینا ہے اس میں داخل کی جاتی ہے۔تو کیا محبت ایک انسانی فطرت ہے ؟ نہیں نہیں۔محبت ایک غرض ہے جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں آدمی کا نام ہی انسان رکھا گیا ہے جس کے معنے ہیں محبت کرنے والا جیسے کہ سورة الر حمن میں خدائے عزوجل نے فرمایا ہے کہ خَلَقَ الإِنسَانَ عَلَّمَهُ البَيَانَ (الرحمٰن: ۴-۵ )یعنی انسان کو پیدا کیا اور اس کو قوت بیانیہ بخشی علمہ البیان کے معنے اس آیت کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے کیاہی صاف ہو جاتے ہیں وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات:۵۷) اب دیکھنا چا ہے کہ عباڈت دو قسم کی ہوتی ہے ایک قولاً اور ایک فعلاً - پس اس جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے انسان کو قوت بیانیہ بخشی پس کیا وجہ ہے کہ وہ میری نا فرمانی کرتا اور اس قوت بیانیہ سے جو میں نے اس کو عطا کی ہے میری تسبیح و تقدیس نہیں بیان کر تا خلق الانسان سے پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس جگہ اشارہ کرتا ہے۔اےآدمی میں نے تو تیری پیدائش ہی میں محبت کرنا رکھ دیا ہے۔تیرا مقصود تو محبت کرنا ہے پھر تو اس قدراحسانات اور عنایات کے باوجود جو کہ میں تجھ پر کر تا ہوں غیر کی محبت میں پڑ گیا ہے۔اس جگہ ان آیات کے لکھنے سے میرا صرف اتنا مطلب ہے کر خدا تعالیٰ نے آدمی کو پیداہی محبت کے لئے کیا ہے اوراس کے پیدا کرنے کا مقصد اور غرض یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو اور اس دائمی زندگی بخشنے والے سمندر میں ہمیشہ غوطہ زن رہے جیسا کہ کسی شخص کا قول ہے کہ۔۔درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں