انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 456 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 456

انوار العلوم جلدا ۴۵۶ سيرة النبي ال باب سوم پیشتر اس کے کہ میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق پاکیزہ کا فردا فرد اذکر اخلاق پر مجموعی بحث کروں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون پر ایک مجموعی حیثیت سے بھی روشنی ڈالوں جس سے پڑھنے والے کو پہلے ہی سے تنبیہ ہو جائے کہ کس طرح آپ ہر پہلو سے کامل تھے اور اخلاق کی تمام شاخوں میں آپ دوسروں کی نسبت بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔ بات کے مفصل ثبوت کے لئے تو انسان کو احادیث کا مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ جب آپ کا اس سلوک صحابہ سے اور ان کا عشق آپ سے دیکھا جائے تو بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے۔ مرحبا احمد مکی مدنی العربی -: - دل و جاں باد فدایت چه عجب خوش لقبی لیکن اس جگہ میں مختصرا یہ بتانا چاہتا ہوں کہ عرب ایک وحشی قوم تھی اور وہ کسی کی اطاعت کرنا حتی الوسع عار جانتی تھی اور اسی لئے کسی ایک بادشاہ کے ماتحت رہنا انہیں گوارہ نہ تھا بلکہ قبائل کے سردار عوام سے مشورہ لے کر کام کرتے تھے ۔ یہاں تک کہ قیصر و کسری کی حکومتیں ان کے دونوں طرف پھیلی ہوئی تھیں لیکن ان کی وحشت اور آزادی کی محبت کو دیکھ کر وہ بھی عرب کو فتح کرنے کا خیال نہ کرتی تھیں۔ عمرو بن ہند جیسا ز بر دست بادشاہ جس نے ارد گرد کے علاقوں پر بڑا رعب جمایا ہوا تھا وہ بھی بدوی قبائل کو روپیہ وغیرہ سے بمشکل اپنے قابو میں لا سکا اور پھر بھی یہ حالت تھی کہ ذرا ذرا سی بات پر وہ اسے صاف جواب دے دیتے تھے اور اس کے منہ پر کہہ دیتے تھے کہ ہم تیرے نوکر نہیں کہ تیری فرمانبرداری کریں چنانچہ لکھا ہے کہ عمرو بن ہند نے اپنے سرداروں سے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے کہ جس کی ماں میری ماں کی خدمت کرنے سے عار کرے۔ اس کے مصاحبوں نے جواب دیا کہ ایک شخص عمرو بن کلثوم ہے اور عرب قبیلہ بنی تغلب کا سردار ہے۔ اس کی ماں بے شک آپ کی ماں کی خدمت سے احتراز کرے گی اور اسے اپنے لئے عار