انوارالعلوم (جلد 1) — Page 454
انوار العلوم جلدا لدولة سيرة النبي کچھ پیا۔ پھر جب پیالہ منہ سے ہٹایا تو حضرت عمرؓ نے اس خوف سے کہ کہیں اس اعرابی کو جو آپ کے دائیں جانب بیٹھا تھا نہ دے دیں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ا ابو بکر آپ کے پاس بیٹھے ہیں انہیں دے دیجئے گا۔ گا۔ لیکن آپ نے اس اعرابی کو جو آپ کے دائیں جانب بیٹھا تھا وہ پیالہ دیا اور فرمایا کہ دایاں دا دایاں دایاں ہی ہے۔ اس ۔ س حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دا پ دائیں جانب کا کتنا لحاظ رکھتے تھے جو آپ کی پاک فطرت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ہم دی رنکہ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت انسانی انسانی میں دائیں کو بائیں پر ترجیح دینا رکھا ہے اور اکثر ممالک کے باشندے باوجود آپس میں کوئی تعلق نہ رکھنے کے اس معاملہ میں متحد ہیں اور دائیں کو بائیں پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور چونکہ آنحضرت ا کی فطرت نہایت پاک تھی اس لئے آپ نے اس بات کی بہت احتیاط رکھی۔ ایک اور حدیث بھی آپ کی اس عادت پر روشنی ڈالتی ہے۔ سہل ابن سعد بھی اللہ فرماتے ہیں کہ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ مِنْهُ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامُ أَصْغَرُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ فَقَالَ يَا غُلَامُ أَتَأْذَنْ لِى أَنْ أُعْطِيَهُ الأَشْيَاخَ قَالَ مَا كُنتُ لا وَثِرَ بِفَضْلِي مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ (بخار المساقاة باب في الشرب) آنحضرت کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں سے آپ نے کچھ پیا۔ اس وقت آپ کے دائیں جانب ایک نوجوان بیٹھا تھا جو سب حاضرین مجلس میں سے صغیر السن تھا اور آپ کے بائیں طرف بوڑھے سردار بیٹھے تھے۔ پس آپ نے اس نوجوان سے پوچھا کہ اے نوجوان کیا تو مجھے اجازت دیتا ہے کہ میں یہ پیالہ بوڑھوں کو دوں ۔ اس نوجوان نے جواب دیا کہ یا رسول اللہ میں آپ کے تبرک کے معاملہ میں کسی اور کے لئے اپنا حق نہیں چھوڑ سکتا۔ اس پر آپ نے وہ پیالہ اس کو دے دیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ دائیں طرف کا ایسا لحاظ رکھتے کہ بائیں طرف کے بوڑھوں کو پیالہ دینے کے لئے آپ نے اول اس نوجوان سے اجازت طلب فرمائی اور اس کے انکار پر اس کے حق کو تسلیم کیا۔ آپ پ کو خدا تعالیٰ سے کچھ ایسی محبت اور پیار تھا کہ کوئی معاملہ ہر معاملہ میں خدا کا ذکر لاتے ہو اس میں خدا تعالیٰ کا ذکر ضرور کرتے۔ اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے کھاتے پیتے ، غرض کہ ہر موقع پر خدا کا نام ضرور لیتے جس کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ آگے چل کر کیا جائے گا۔ یہاں صرف اسقدر لکھنا ہے کہ یہ بات بھی آپ کی عادات میں داخل تھی کہ سونے سے پہلے دونوں ہاتھوں کو ملا کر دعا فرماتے پھر سب بدن پر ہاتھ پھیر لیتے چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی