انوارالعلوم (جلد 1) — Page 441
5۔تعلىم کى ترغىب دىنا اور اس کے لئےمفىد تجاوىز پىش کرنا۔6۔تبلىغ اسلام کى ترغىب دىنا اس کے لئے ذرائع کى تلاش کرنا اور مخالفىن کى تبلىغى کوششوں سے آگاہ کرنا۔7۔سىاست مىں جماعت کو ان اصولوں پر چلنے کى تعلىم دىنا کہ جن پر حضرت صاحبؑ قوم کو چلانا چاہتے تھے اور حضرت خلىفة المسىحؓ چلانا چاہتے ہىں اور گورنمنٹ کى و فادارى کى تعلىم دىنا۔8۔ضرورى مفىد اخبار کى واقفىت بہم پہنچانا جن سے عموماً خبروں کے لئے اور کسى اخبار کى احتىاج نہ رہے خصوصاً عالم اسلام کى خبروں سے آگاہ کرنا۔9۔احمدى جماعت مىں آپس مىں مىل ملاپ اور و اقفىت کےبڑھانے اور مرکزى حىثىت مىں لانے کى کو شش کرنا۔10۔صنعت و حرفت تجارت وغىرہ کے متعلق اور اىجادات جدىدہ کے متعلق بقدر امکان واقفىت بہم پہنچانا۔اس پر حضرت خليفة المسيح کی رائے ميں نے اس امر کے متعلق حضرت خليفة المسيح سے مشورہ ليا تو آپ نے جو کچھ اس پر تحرير فرمايا ہے وہ جماعت کی آگاہہی کے لئے نقل کيا جا تاہے۔’’ہفتہ وار پبلک اخبار کا ہونا بہت ہي ضروري ہے جس قدر اخبار ميں دلچسپي بڑھے گي خريدار خود بخود پيدا ہوں گے۔ہا ں تائيد الہيٰ حسن نيت اخلاص اور ثواب کي ضرورت ہے زميندار، ہندوستان، پيسہ اخبار ميں اور کيا اعجاز ہے ؟ و ہاں تو صرف د لچسپي ہے اور يہاں دعا، نصرت الہٰيہ کي اميد بلکہ يقين۔تَوَکُّلًا عَلَي اللّٰہِ کام شروع کرديں۔‘‘ نور الدين(دستخط) اس تحرير کو پڑھ کر کوئي شک کي گنجائش نہيں رہتي کہ ايک ايسے اخبار کي ضرورت ہے اس لئے بموجب ارشاد حضرت خليفة المسيحؓ تَوَکُّلًا عَلَي اللّٰہِ اس اخبار کو شائع کرنے کا اعلان کيا جاتا ہے ہمارا کام کوشش ہے برکت اور اتمام خدا تعاليٰ کے اختيار ميں ہے ليکن چونکہ يہ سلسلہ خدا کي طرف سے ہے اس لئے اس کي مدد کايقين ہے۔بے شک ہماري جماعت غريب ہے ليکن ہمارا خدا غريب نہيں ہے