انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 439

والَّذِيْنَ لايَعْلَمُوْنَ (الزمر:10(اور رسول کريم ﷺ فرماتے ہيں۔کَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤمِنِ اَخَذَھَا حَيْثُ وَجَدَ ھَا پس احمدي جماعت کا اہم فرض تھا کہ اس معاملہ ميں دو سروں سے بڑھ کر قدم مارتي اور اس جماعت کا کوئي فرد نہ رہتا جو تعليم يافتہ نہ ہو۔اور نہ صرف خود تعليم حاصل کرتے بلکہ دوسروں کو بھي اس کي ترغيب ديتے۔چھٹی ضرورتيہ ہے کہ احمدي جماعت اب ہندوستان کے ہر گوشہ ميں پھيل گئي ہے ليکن آپس ميں ايک دوسرے سے واقفيت پيدا کرنا اور ميل ملاپ کو ترقي دينا بہت ضروري ہے اور اس کے علاوہ يہ کوشش بھي ضروري ہے کہ وہ آپس کے جھگڑے آپس ميں ہي فيصلہ کيا کريں۔ساتويں ضرورتاحمدي جماعت کو دنيا کي ترقي سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ بھي اللہ تعاليٰ کے فضل سے محروم نہ رہيں۔اور دين دنيا ميں ترقي حاصل کريں۔اور اس کے لئے ضروري ہے کہ تجارت حرفت و صنعت اور ايجادات جديدہ سے انہيں آگاہ کرنے کا کوئي ذريعہ نکالا جائے۔آٹھويں ضرورتتبليغ کے لئے کوشش کرنا اور جن ممالک ميں تبليغ نہيں ہوئي ان کي طرف توجہ دينا اور دشمنان اسلام کي تبليغي کو ششوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا۔ان ضروريات کو پورا کرنے کا سامانضروريات کو مدنظر رکھ کر ہم نے ارادہ کيا ہے کہ ايک اخبار قاديان سے نکالا جائے۔جوان ضروريات کو پورا کرنے کے علاوہ ديگر ضروري امور ميں احمدي جماعت کي خدمت بجالائے اور اللہ تعاليٰ سے دعا ہے کہ وہ ہماري اس خواہش کو پورا کرے اور اس اخبار کو مفيدبنائے۔قوم پر بوجھ نہيں پڑنا چاہئےايک سوال جو ہر نئے کام کے اجراء پر لوگوں کے دل ميں پيدا ہوا کرتا ہے يہ ہے کہ کيا اس نئے اخبار کابوجھ قوم پر نہيں پڑے گا اور کيا آگے ہي بڑھتي ہوئي ضروريات کو مد نظر رکھ کر يہ ضروري نہيں کہ قوم پر مزيد بوجھ نہ ڈالا جائے ؟ ليکن اس کے جواب ميں مجھے صرف اتنا کہنے کي ضرورت ہے کہ تمہارے کام خدا نےکرنے ہيں اور جب خدا نے اس سلسلہ کو قائم کيا ہے تو اس کي ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے وہ سامان بھي ضرور مہيا کرے گا۔جس موليٰ نے بچے کي پيدائش سے پہلے ماں کی چھاتيوں ميں دودھ اتارا ہے۔اور انسان کي پيدائش سے پہلے سورج، چاند، ستارے ،پانی اور ہوا پيدا کئے ہيں کيا وه