انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 438

تعالی ٰ کے قائم کردہ سلسلوں کے افراد کو ہر معاملہ ميں دوسروں سے بڑھ کر قدم مارنا چاہئے اور سب مفيد علوم ميں ان کا نمبر دوسروں پر فائق ہونا ضروري ہے۔دوسری ضرورتايک نئے اخبار کي ضرورت يہ ہے کہ بہت سے احمدي ہيں کہ جو احمد ي تو ہو گئے ہيں۔ليکن ان کو بھي معلوم نہيں کہ احمدي ہو کر ہم پر کيا ذمہ دارياں عائد ہوتي ہيں اور کس طرح ہميں دوسروں کي نسبت رسومات و بدعات اور مقامات اسراف سے بچنا چاہئے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بھي ايک سخت کوشش کی ضرورت ہے۔تيسری ضرورتيہ ہے کہ ترقي کرنے والي قوم کے لئے اپنے اسلاف کے نيک کاموں، بلندارادوں،وسيع الحوصلگيوں، صبرو استقلال کے کارناموں سے واقف ہونا اور اپنے کام کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کي مشقت اٹھانے کے لئے تيار ہونا ضروري ہو تا ہے۔اس لئے احمد ي جماعت کو تاريخ اسلام سے واقفيت بھي ضروري ہے۔خصوصاً رسول کريم ﷺ(فدا ہ ابي و امي ) اور صحابہؓ کي تاريخ سے۔چوتھي اَشَدّ ضرورتاس وقت يہ ہے کہ ہندوستان نہيں بلکہ دنيا کي اکثر قوموں ميں اس وقت سخت بے چيني پھيلی ہوئي ہے اور ايک دوسرے کے خلاف بغض و عناد کا دريا جوش مار رہا ہے اور اس سلسلہ ميں ہندوستان ميں بھي ايک گروہ ايساپيدا ہو گيا ہے کہ جو گورنمنٹ انگلشيہ کے خلاف عجيب عجيب رنگ سے بد ظنياں پھيلا رہا ہے اور وفاداري کے پر دہ ميں اس حکومت کو کمزور کرنے کي فکر ميں ہے اور چونکہ ہمارا کوئي ايسا اخبار نہيں کہ جو سياست کے اہم مسائل پر اس نقطۂ خيال سے روشني ڈالے کہ جو حضرت صاحب نے قائم کيا ہے اس لئے خطرہ ہے کہ ہم ميں سے بعض احباب اس رو ميں نہ بہہ جائيں اس لئے ضروري ہے کہ بڑے زور سے اس معاملہ پر حضرت صاحب کي تحريروں سے روشني ڈالي جائے اور احمد يوں ميں اس سياست کو رائج کياجائے جسے حضرت صاحب نے پيش کيا۔اور ان اصولوں کو شہرت دي جائے جن پر حضرت صاحب ؑ احمد ي جماعت کو چلانا چاہتے تھے۔اور احمدي جماعت کو اس موقعہ پر اس کے اہم فرائض بار بار ياد دلائے جائيں تاکہ وہ اپنے امام کے پيش کردہ معيار وفاداری پر قائم رہيں۔پانچويں نہايت اشدضرورتاحمدي جماعت ميں تعليم کا پھيلانا ہے۔ميں ديکھتا ہوں کہ جس طرح ہندوستان ميں اور قوميں تعليم ميں پيچھے رہي ہوئی ہيں۔اسي طرح احمد ی بھي تعليم ميں سست ہيں حالانکہ اللہ فرماتا ہےهَلْ يَسْتَوِيْ الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ