انوارالعلوم (جلد 1) — Page 435
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اخبار فضل کا* پراسپکٹس چھوٹے بڑے کس طرح ہوتے ہیںہندوستان کیا ہر ملک میں جنگل کے جنگل درختوں کے کھڑے ہوتے ہیں۔ان درختوں کو کس نے لگایا۔اور کون ان کی حفاظت کر رہا ہے۔کس نے ان کو پانی دیا پھر کس نے جانوروں اور حشرات الارض سے ان کی نگہبانی کی۔وہ کونسی قوم تھی جو اپنا وقت اور مال صرف کر کے ان کے لگانے اور پھر ان کی حفاظت کرنے میں مصروف رہی اگر کوئی قوم ایسی نظر نہیں آتی تو پھر وہ کہاں سے آئے آسمان پر ایک ہستی ہے جس نے زمین کو آسمان کو سورج کو چاند کو ستاروں کو سیاروں کو آگ کو پانی کو مٹی کو ہوا کو انسان کو حیوان کو پیدا کیا ہے۔اسی نے ان درختوں کو لگایا اور ایسے رنگ میں لگایا ہے کہ جسے دیکھ کر عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔ایک چھوٹے سے بیج کو جسے دیکھ کر کوئی وہم بھی نہیں کرسکتا کہ اس میں سےاس قدر عظیم الشان درخت کھڑا ہوجائے گا۔ہوائیں اڑا کر لاتی ہیں۔اور ایک خالی جگہ پر گر جاتا ہے۔پھر ہلکی ہوائیں اس پر کچھ گردو غبار ڈال دیتی ہیں۔اور پھر آسمانوں اور زمینوں کا بادشاہ سورج کو حکم دیتا ہے کہ اپنی حرارت سے وہ سمندروں میں سے پانی کھینچے مون سون اسے اڑا لاتی ہیں اور رفتہ رفتہ وہ بادل کی صورت اختیار کرتا ہے۔اور اس وسیع میدان میں کہ جس میں وہ بیج آپڑا تھا آکر برستا ہے۔اور پھر بغیر اس کے کہ کوئی انسان بیلوں اور کنووں کی مدد سے اسے پانی دے اسے پانی مل جاتا ہے اور وہ بیج اپنی طاقت کے مطابق پھولتا ہے۔اور پھر اس میں سے ایک باریک سی شاخ نکلتی ہے جو زمین سے خوراک حاصل کرتی ہے۔اور سورج سے حرارت لیکن چند سال نہیں گزرنے پاتے کہ وہ ایک درخت ہوجاتا ہے۔*الفضل اخبار مراد ہے۔پہلے نام فضل تجویز ہوا تھا۔