انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 436

اور پھر اسے پھل لگتے ہیں اور پھر اپنے وقت پر وہ پھل زمین پر گر جاتے ہیں۔اور ان سے اس طریق پر درخت پیدا ہوتے ہیں۔اور ہوتے ہوتے لاکھوں لاکھ درخت پیدا ہوجاتے ہیں اور بعض دفعہ ان کا دائرہ سینکڑوں میلوں تک وسیع ہوجاتا ہے۔کیا کوئی بیج کو دیکھ کر نتیجہ نکال سکتا تھا کہ یہ بیج اس طرح بڑھے گا۔ہاں کیا کوئی اس چھوٹی سی شاخ کو جو بارش کے بعد زمین سے نمودار ہوئی تھی دیکھ کر فیصلہ کر سکتا تھا کہ یہ شاخ لاکھوں شاخوں کی جڑ ہوگی پھر کیا کوئی اس اکیلے درخت کو دیکھ کر کہہ سکتا تھاکہ اس درخت سے لاکھوں درخت پیدا ہوں گے۔مگر اس دنیا کا ایک آقا ہے اس کے ایک ادنیٰ سے اشارے سے یہ سب ہوا اور ہوتا ہے۔روحانی سلسلوں کی مثال جنگل سےجس طرح بغیر کسی کے بیج لگائے بغیر کسی کے پانی دیئے بغیر کسی کی ظاہری حفاظت اور کوشش کے جنگل پیدا ہوجاتے ہیں۔اسی طرح نامعلوم طور سے ایک روحانی بیج دنیا میں ڈالا جاتا ہے اور اسے دیکھ کر ہر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اکیلا بیج جو کسی کی حفاظت میں نہیں جلد تباہ ہوجائے گا اور کسی کے پاؤں تلے آکر پِس جائے گا۔اور کوئی کونپل اس سے پیدا بھی ہوئی تو وہ جلد روندی جائے گی۔لیکن وہ نادان کیا جانتا ہے کہ اس کا نگران کسی کو نظر نہیں آتا مگر وہ سب کا نگران ہے اور کوئی چیز اس کی نظروں سے پوشیدہ نہیں وہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور الہام کے پانی سے سیراب کرتا ہے۔وہاں بے شک اس بیج کے مالی نظر نہیں آتے۔مگر اس کی حفاظت کے لئے ملائکہ تلواریں لئے کھڑے ہوئے ہیں۔اور ہر ایک خطرہ سے اسے محفوظ رکھتے ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ روحانی بیج جو خدا نے دنیا میں ڈالا ہے جلد تباہ ہوجائے گا لیکن ایک دن یہ دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں کہ وہ تمام دنیا میں پھیل گیا ہے۔اس کے کاٹنے کی کسی کو طاقت نہیں بلکہ جو چیز اس کی لپیٹ میں آتی ہے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے۔كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِي السَّمَاۗءِ تُؤْتِيْٓ اُكُلَهَا كُلَّ حِيْنٍۢ بِاِذْنِ رَبِّهَا وَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ (ابراہیم: 25، 26) كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْـَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا(الفتح:۳۰) ہماری جماعت کا بھی یہی حال ہےچونکہ حضرت مسیح موعودؑ بھی انہی بیجوں میں سے ایک بیج تھے اس لئے ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ ہوا۔آج سے تیس سال پہلے کون کہہ سکتا تھا کہ یہ بیج اس قدر ترقی کرے گا اور نہ صرف اپنے اندر ترقی کرے