انوارالعلوم (جلد 1) — Page 430
انوار العلوم جلد 1 ۳۰ وس دلا کل هستی باری تعالی دیتا تھا اور بڑے لفظوں کے ساتھ توہین کرتا تھا پھر ۲۲ فروری ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں اسکے مرنے کی صورت بھی بتادی عجل خُوَازَ لَهُ نَصَبَ وَ عَذَاب یعنی لیکھرام گوساله سامری سامری ہے جو بیجان ہے اور اس میں محض ایک آواز ہے جس میں روحانیت نہیں اس لئے اس کو عذاب دیا جاوے گا جو گو سالہ سامری کو دیا گیا تھا ہر ایک شخص جانتا ہے کہ گو سالہ سامری کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور پھر جلایا گیا اور دریا میں ڈالا گیا تھا پھر ۲ اپریل ۱۸۹۳ء کو آپ نے ایک کشف دیکھا۔ (دیکھو برکات الدعا کا حاشیہ - روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۳) ایک قوی مهیب شکل جو گویا انسان نہیں ملا ئک شداد اور غلاظ سے ہے وہ پوچھتا ہے کہ لیکھرام کہاں ہے پھر کرامات لرامات الصادقین کے اس شعر سے دن بھی بتا دیا وَبَشَّرَنِي رَبِّي وَقَالَ مُبَشِّراً سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ وَ الْعِيْدُ اقْرَبُ یعنی عید سے دوسرے دن ہفتہ والے دن اورے الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بران محمد " پانچ سال پہلے شائع کر کے قتل کی صورت بھی بتادی آخر لیکھرام ۲ مارچ ۱۸۹۷ء کو قتل کیا گیا اور سب نے متفق اللفظ مان لیا کہ یہ پیشگوئی بڑی صفائی کے ساتھ پوری ہو کر اللہ کی ہستی کیلئے حجت ناطقہ ٹھہری پس الہام الہی ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے خدا کا انکار کرنا نہایت بے حیائی بے شرمی ہوگی۔ ٧٠) دسویں دلیل جو ہر ایک نزاع کے فیصلہ کے لئے قرآن شریف نے بیان فرمائی ہے اس دلیل و ہم آیت سے لگتی ہے کہ وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ( الكبوت (۷) یعنی جو لوگ ہمارے متعلق کوشش کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیتے ہیں اور اس آیت پر جن لوگوں نے عمل کیا وہ ہمیشہ نفع میں رہے ہیں۔ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کا منکر ہوا اسے تو ضرور خیال کر لینا جو چاہئے کہ اگر خدا ہے تو اس کے لئے بہت مشکل ہو گی پس اس خیال سے اگر سچائی کے دریافت کرنے کی اس کے دل میں تڑپ ہو تو اسے چاہئے کہ گڑ گڑا کر اور بہت زور لگا کر وہ اس رنگ میں دعا کرے کہ اے خدا اگر تو ہے اور جس طرح تیرے ماننے والے کہتے ہیں تو غیر محدود طاقتوں والا تو تو ہے تو مجھ پر رحم کر اور مجھے اپنی طرف ہدایت کر اور میرے دل میں بھی یقین اور ایمان ڈال دے ہ تو مجھ پر مکر اورمجھےاپنی طرف کر دل میں بھی ایمان وال دے تاکہ میں محروم نہ رہ جاؤں اگر اس طرح سچے دل سے کوئی شخص دعا کرے گا اور کم سے کم چالیس دن تک اس پر عمل کرے گا تو خواہ اس کی پیدائش کسی مذہب میں ہوئی ہو اور وہ کسی ملک کا باشندہ