انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 427

نے دعا کی اور وہ اچھا ہوگیا۔حالانکہ دیوانے کتے کے کاٹے ہوئے دیوانہ ہو کر کبھی اچھے نہیں ہوتے۔پس دعائوں کی قبولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو انہیں قبول کرتی ہے اور دعائوں کی قبولیت کسی خاص زمانہ سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہر زمانے میں اس کے نمونے دیکھے جاسکتے ہیں جیسے پہلے زمانہ میں دعائیں قبول ہوتی تھیں ویسے ہی اب بھی ہوتی ہیں۔دلیل نہم نویں دلیل قرآن شریف سے وجودِباری کی الہام معلوم ہوتی ہے۔یہ دلیل اگرچہ میں نے نویں نمبر پر رکھی ہے لیکن درحقیقت نہایت عظیم الشان دلیل ہے جو خدا تعالیٰ کے وجود کو یقینی طور سے ثابت کردیتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ (ابراہیم28:) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس دنیا اور اگلی دنیا میں پکی باتیں سنا سنا کر مضبوط کرتا رہتا ہے۔پس جب کہ ہر زمانہ میں اللہ تعالیٰ ایک بڑی تعداد کے ساتھ ہم کلام ہوتا رہتا ہے تو پھر اس کا انکار کیونکر درست ہوسکتا ہے اور نہ صرف انبیاء اور رسولوں کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے بلکہ اولیاء سے بھی باتیں کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے کسی غریب بندہ پر بھی رحم کرکے اس کی تشفی کے لئے کلام کرتا ہے۔چنانچہ اس عاجز سے بھی اس نے کلام کیا اور اپنے وجود کو دلائل سے ثابت کیا۔پھر یہی نہیں بعض دفعہ نہایت گندے اور بدباطن آدمیوں سے بھی ان پر حجت قائم کرنے کے لئے بول لیتا ہے۔چنانچہ بعض دفعہ چوہڑوں چماروں کنچنیوں تک کو خوابیں اور الہام ہوجاتے ہیں اور اس بات کا ثبوت کہ وہ کسی زبردست ہستی کی طرف سے ہیں یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ان میں غیب کی خبریں ہوتی ہیں جو اپنے وقت پر پوری ہوکر بتا دیتی ہیں کہ یہ انسانی دماغ کا کام نہ تھا اور نہ کسی بدہضمی کا نتیجہ تھا اور بعض دفعہ سینکڑوں سال آگے کی خبریں بتائی جاتی ہیں تاکہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ موجودہ واقعات خواب میں سامنے آگئے اور وہ اتفاقاً پورے بھی ہوگئے۔چنانچہ توریت اور قرآن شریف میں مسیحیوں کی ان ترقیوں کا جن کو دیکھ کر اب دنیا حیران ہے، پہلے ذکر موجود تھا اور پھر صریح لفظوں میں تفصیل کے ساتھ۔بلکہ ان واقعات کا بھی ذکر ہے جو آئندہ پیش آنے والے ہیں۔مثلاً اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ (التکویر5:) یعنی ایک وقت آتا ہے کہ اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی اور حدیث مسلم میں اس کی تفسیر یہ ہے وَلْیَتْرَکَنَّ الْقِلَاصُ فَلَا یُسْعٰی عَلَیْھَا یعنی اونٹنیوں سے کام نہ لیا جائے گاچنانچہ اس زمانے میں ریل کے اجراء سے یہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔ریل کے متعلق نبی کریم ﷺ کے کلام میں ایسے ایسے اشارے پائے جاتے ہیں جن سے ریل کا نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے اور یقین ہوجاتا ہے کہ کلام نبوت میں بھی سواری