انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 426

پاک ذات کے نام کے پھیلانے والے تھے۔یہاں تک کہ ایک یورپ کا مصنف کہتا ہے کہ ان کو خدا کا جنون تھا (نعوذباللہ) ہر وقت خدا خدا ہی کہتے رہتے تھے۔ان کی سات قوموں نے مخالفت کی۔اپنے پرائے سب دشمن ہوگئے مگر کیا پھر آپ کے ہاتھ پر دنیا کے خزانے فتح نہیں ہوئے؟ اگر خدا نہیں تو یہ تائید کس نے کی؟ اگر یہ سب کچھ اتفاق تھا تو کوئی مبعوث تو ایسا ہوتا جو خدا کی خدائی ثابت کرنے آتا اور دنیا اسے ذلیل کردیتی مگر جو کوئی خدا کے نام کو بلند کرنے والا اُٹھا، وہ معزز و ممتاز ہی ہوا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ مَنْ یَّتَولَّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ (المائدہ57:) اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں سے دوستی کرتا ہے۔پس یاد رکھنا چاہئے کہ یہی لوگ خدا کے ماننے والے ہی غالب رہتے ہیں۔دلیل ہشتم:۔آٹھویں دلیل جو قرآن شریف سے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے ثبوت میں ملتی ہے یہ ہے کہ وہ دعائوں کو قبول کرتا ہے۔جب کوئی انسان گھبرا کر اس کے حضور میں دعا کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرتا ہے۔اور یہ بات کسی خاص زمانہ کے متعلق نہیں بلکہ ہر زمانہ میں اس کے نظارے موجود ہوتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْالِیْ وَلْیُؤْمِنُوْابِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ (البقرۃ187:) یعنی جب میرے بندے میری نسبت سوال کریں تو انہیں کہہ دو کہ میں ہوں اور پھر قریب ہوں، پکارنے والے کی دعا کو سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔پس چاہئے کہ وہ بھی میری بات مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔اب اگر کوئی شخص کہے کہ کیونکر معلوم ہو کہ دعا خدا سنتا ہے کیوں نہ کہا جائے کہ اتفاقاً بعض دعا کرنے والے کے کام ہو جاتے ہیں۔جیسے بعض کے نہیں بھی ہوتے۔اگر سب دعائیں قبول ہو جائیں تب بھی کچھ بات تھی لیکن بعض کے قبول ہونے سے کیونکر معلوم ہوکہ اتفاق نہ تھا۔بلکہ کسی ہستی نے قبول کرلیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت اپنے ساتھ نشان رکھتی ہے۔چنانچہ ہمارے آقا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ثبوت باری تعالیٰ کی دلیل میں یہ پیش کیا تھا کہ چند بیمار جو خطرناک طور پر بیمار ہوں چنے جائیں اور بانٹ لئے جائیں اور ایک گروہ کا ڈاکٹر علاج کریں اور ایک طرف میں اپنے حصہ والوں کے لئے دعا کروں پھر دیکھو کہ کس کے بیمار اچھے ہوتے ہیں۔اب اس طریق امتحان میں کیا شک ہو سکتا ہے۔چنانچہ ایک سگ گزیدہ جسے دیوانگی ہوگئی اور جس کے علاج سے کسولی کے ڈاکٹروں نے قطعاً انکار کردیا تھا اور لکھ دیا تھا کہ اس کا کوئی علاج نہیں۔اس کے لئے آپ