انوارالعلوم (جلد 1) — Page 423
انوار العلوم جلد 1 ۳۲۳ وس دلائل ہستی باری تعالی کبھی کوئی اختلاف اللہ تعالی کی پیدائش میں نہیں دیکھے گا پس اپنی آنکھ کو لوٹا کیا تجھے کوئی شگاف نظر آتا ہے دوبارہ اپنی نظر کو لوٹا کر دیکھ تیری نظر تیری طرف تھک کر اور ماندہ ہو کر لوٹے گی۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تمام کائنات اتفاقا پیدا ہو گئی اور اتفاقی طور پر مادہ کے ملنے سے یہ سب کچھ بن گیا اور سائنس سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا خود بخود جڑ کر آپ ہی چلتی جائے اور اس کا پھر انیوالا کوئی نہ ہو۔ لیکن ان کا جواب اللہ تعالیٰ ان آیات میں دیتا ہے کہ اتفاقی طور سے جڑنے والی چیزوں میں کبھی ایک سلسلہ اور انتظام نہیں ہو تا بلکہ بے جوڑی ہوتی ہے مختلف رنگوں سے مل کر ایک تصویر بنتی ہے لیکن کیا اگر مختلف رنگ ایک کاغذ پر پھینک دیں تو اس سے تصویر بن جائے گی۔ اینٹوں سے مکان بنتا ہے لیکن کیا اینٹیں ایک دوسرے پر پھینک دینے سے مکان بن جائے گا۔ بفرض محال اگر یہ مان لیا جائے کہ بعض واقعات اتفاقا بھی ہو جاتے ہیں لیکن نظام عالم کو دیکھ کر کبھی کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ آپ ہی ہو گیا۔ مانا کہ خود بخود ہی مادہ سے زمین پیدا ہو گئی اور یہ بھی مان لیا کہ اتفاق ہی انسان پیدا ہو گیا لیکن انسان کی خلقت پر نظر تو کرو کہ ایسی کامل پیدائش کبھی خود بخود ہو سکتی ہے عام طور سے دنیا میں ایک صفت کی خوبی سے اسکے صناع کا پتہ لگتا ہے ایک عمدہ تصویر کو دیکھ کر فورا خیال ہوتا ہے کہ کسی بڑے مصور نے بنائی ہے ایک عمدہ تحریر کو دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ کسی بڑے کاتب نے لکھی ہے اور جس قدر ربط بڑھتا جائے اسی قدر اس کے بنانے یا لکھنے والے کی خوبی اور بڑائی ذہن نشین ہوتی جاتی ہے پھر کیونکر تصور کیا جاتا ہے کہ ایسی منتظم دنیا خود بخود اور یونہی پیدا ہو گئی۔ ذرا اس بات پر تو غور کرو کہ جہاں انسان میں ترقی کرنے کے قومی ہیں وہاں اسے اپنے خیالات کو عملی صورت میں لانے کیلئے عقل دی گئی ہے اور اس کا جسم بھی اس کے مطابق بنایا گیا ہے چونکہ اس کو محنت سے رزق کمانا تھا اس لئے اسے مادہ دیا کہ چل پھر کر اپنا رزق پیدا کرلے درخت کا رزق اگر زمین میں رکھا ہے تو اسے جڑیں دیں کہ وہ اسکے اندر سے اپنا پیٹ بھر لے ۔ اگر شیر کی خوراک گوشت رکھی تو اسے شکار مارنے کیلئے ناخن دیئے اور اگر گھوڑے اور بیل کیلئے گھاس کھانا مقدر کیا تو انکو ایسی گردن دی جو جھک کر گھاس پکڑ سکے اور اگر اونٹ کیلئے درختوں کے پتے اور کانٹے مقرر کئے تو اسکی گردن بھی اونچی بنائی کیا یہ سب کارخانہ اتفاق سے ہوا۔ کیا اتفاق نے اس بات کو معلوم کر لیا تھا کہ اونٹ کو گردن لمبی دوں اور شیر کو پہنچے اور درخت کو جڑیں اور انسان کو ٹانگیں ۔ ہاں کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ جو کام خود بخود ہو گیا اس میں اس قدر انتظام رکھا گیا ہو۔ پھر اگر انسان کے لئے پھیپھڑا بنایا تو اس کے لئے ہو ا بھی پیدا کی اگر پانی پر