انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 422

کوئی مخلوق ہو نہیں سکتی اور انسان اپنا آپ خالق نہیں ہے کیونکہ اس کی حالت پر جس قدر غور کریں وہ نہایت چھوٹی اور ادنیٰ حالت سے ترقی کرکے اس حالت کو پہنچتا ہے اور جب وہ موجودہ حالت میں خالق نہیں تو اس کمزور حالت میں کیونکر خالق ہوسکتا تھا۔تو ماننا پڑے گا کہ اس کا خالق کوئی اور ہے جس کی طاقتیں غیرمحدود اور قدرتیں لاانتہاء ہیں۔غرضیکہ جس قدر انسان کی درجہ بدرجہ ترقی پر غور کرتے جائیں اس کے اسباب باریک سے باریک ترہوتے جاتے ہیں اور آخر ایک جگہ جا کر تمام دنیاوی علوم کہہ دیتے ہیں کہ یہاں اب ہمارا دخل نہیں اور ہم نہیں جانتے کہ یہ کیوں ہوگیا اور وہی مقام ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کررہا ہوتا ہے اور ہر ایک سائنس دان کو ماننا پڑتا ہے کہ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَھٰی یعنی ہر ایک چیز کی انتہاء ہوتی ہے اور آخر ایک ایسی ہستی پر ہوتی ہے کہ جس کو وہ اپنی عقل کے دائرہ میں نہیں لا سکتے اور وہی خدا ہے۔یہ ایک موٹی دلیل ہے کہ جسے ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے۔کہتے ہیں کہ کسی نے ایک بدوی سے پوچھا تھا کہ تیرے پاس خدا کی کیا دلیل ہے۔اس نے جواب دیا کہ جنگل میں ایک اونٹ کی مینگنی پڑی ہوئی ہو تو میں دیکھ کر بتا دیتا ہوں کہ یہاں سے کوئی اونٹ گزرا ہے۔پھر اتنی بڑی مخلوقات کو دیکھ کر میں معلوم نہیں کرسکتا کہ اس کا کوئی خالق ہے۔٭ واقعی یہ جواب ایک سچا اور فطرت کے مطابق جواب ہے اور اس مخلوقات کی پیدائش کی طرف اگر انسان توجہ کرے تو آخر ایک ہستی کو ماننا پڑتا ہے کہ جس نے یہ سب پیدا کیا۔(……جاری ہے) پانچویں دلیل پانچویں دلیل ہستی باری تعالیٰ کی جو قرآن شریف نے دی ہے گو اسی رنگ کی ہے لیکن اس سے زیادہ زبردست ہے اور وہاں استدلال بالاَولیٰ سے کام لیا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرُO الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُO الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ O ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْکَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّھُوَ حَسِیْرٌ (الملک۔۲،۵) یعنی بہت برکت والا ہے وہ جس کے ہاتھ میں ملک ہے وہ ہر ایک چیز پر قادر ہے اس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم میں سے کون زیادہ نیک عمل کرتا ہے اور وہ غالب ہے، بخشندہ ہے۔اس نے ساتوں آسمان بھی پیدا کئے اور ان میں آپس میں موافقت اور مطابقت رکھی ہےتو ٭ اَلْبَعْرَۃُ تَدُلُّ عَلَی الْبَعِیْرِ وَاَثَرُالْقَدَمِ السَّفِیْرِ فَالسَّمَآئُ ذَاتُ الْبُرُوْجِ وَالْاَرْضُ ذَاتُ فِجَاجٍ اَمَا تَدُلُّ عَلٰی قَدِیْرٍ۔