انوارالعلوم (جلد 1) — Page 418
قائل ہوئی ہے۔دلیل دوم:۔دوسری دلیل جو قرآن شریف میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق دی ہے ان آیات سے معلوم ہوتی ہے کہ وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰھَآ اِبْرٰھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاءُ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔وَوَھَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ کُلًّا ھَدَیْنَا وَنُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَھٰرُوْنَ وَکَذٰلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ۔وَزَکَرِیَّا وَ یَحْیٰی وَعِیْسٰی وَاِلْیَاسَ کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْن َوَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ (الانعام84-87:) پھر کچھ آیات کے بعد فرمایا کہ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدَاہُمُ اقْتَدِہْ (الانعام91:) یعنی ایک دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم ؑ کو اس کی قوم کے مقابل میں دی اور ہم جس کے درجات چاہتے ہیں، بلند کرتے ہیں۔تحقیق تیرا ربّ بڑا حکمت والا اور علم والا ہے اور ہم نے اسے اسحاق ویعقوب دئے۔ہر ایک کو ہم نے سچا راستہ دکھایا اور نوح کو بھی ہم نے سچا راستہ دکھایا۔اس سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے دائود اور سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی اور ہم نیک اعمال میں کمال کرنے والوں کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا کرتے ہیں اور زکریا، یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو بھی راہ دکھایا اور یہ سب لوگ نیک تھے اور اسماعیل اور یسع اور لوط کو بھی راستہ دکھایا اور ان سب کو ہم نے اپنے اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت دی تھی اور پھر فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے کہ جن کو خدا نے ہدایت دی۔پس تو ان کے طریق کی پیروی کر۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس قدر نیک اور پاک لوگ جس بات کی گواہی دیتے ہیں وہ مانی جائے یا وہ بات جو دوسرے ناواقف لوگ کہتے ہیں اور اپنے چال چلن سے ان کے چال چلن کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔سیدھی بات ہے کہ انہی لوگوں کی بات کو وقعت دی جاویگی جو اپنے چال چلن اور اپنے عمل سے دنیا پر اپنی نیکی اور پاکیزگی اور گناہوں سے بچنا اور جھوٹ سے پرہیز کرنا ثابت کرچکے ہیں۔پس ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ وہ انہی کا تتبع کرے اور ان کے مقابل میں دوسرے لوگوں کی بات کا انکار کردے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس قدر نیکی اور خلق کے پھیلانے والے گزرے ہیں اور جنہوں نے اپنے اعمال سے دنیا پر اپنی راستی کا سکہ بٹھا دیا تھا وہ سب کے سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ایک ایسی ہستی ہے جسے مختلف زبانوں میں اللہ یا گاڈ (God) یا پرمیشور کہا گیا ہے۔ہندوستان کے راستباز رامچندرؑ، کرشنؑ، ایران کا راستباز زرتشتؑ، مصر کا راستباز موسیٰؑ، ناصرہ کا راستباز مسیح ؑ، پنجاب کا ایک راستباز نانکؒ۔پھر سب راستبازوں کا سرتاج عرب کا نور محمد