انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 414

دکھاؤ پھر میں دیکھ کر مانوں گا کہ وہ بولتا ہے تو کیا ایسا شخص جاہل ہوگا یا نہیں۔ایسا ہی خوشبو سونگھ کر معلوم ہوتی ہے لیکن اگر کوئی شخص طلب کرے کہ اگر تم مجھے گلاب کی خوشبو چکھا دو تو تب میں مانوں گا تو کیا ایسے شخص کو دانا کہہ سکیں گے۔اس کے خلاف چکھ کر معلوم کرنے والی چیزوں یعنی ترشی، شیرینی، کڑواہٹ، نمکینی کو اگر کوئی سونگھ کر معلوم کرنا چاہے تو کبھی نہیں کر سکتا۔پس یہ کوئی ضروری نہیں کہ جو چیز سامنے نظر آئے اسے تو ہم مان لیں اور جو چیز سامنے نظر نہ آئے اسے نہ مانیں۔ورنہ اس طرح تو گلاب کی خوشبو، لیموں کی ترشی، شہد کی مٹھاس، مصبّر(مشہور کڑوی دوا) کی کڑواہٹ، لوہے کی سختی، آواز کی خوبی سب کا انکار کرنا پڑیگا کیونکہ یہ چیزیں تو نظر نہیں آتیں بلکہ سونگھنے، چکھنے، چھونے اور سننے سے معلوم ہوتی ہیں پس یہ اعتراض کیسا غلط ہے کہ خدا کو ہمیں دکھائو تب ہم مانیں گے۔کیا یہ معترض گلاب کی خوشبو کو دیکھ کر مانتے ہیں یا شہد کی شیرینی کو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق یہ شرط پیش کی جاتی ہے کہ دکھا دو تب مانیں گے۔علاوہ ازیں انسان کے وجود میں خود ایسی چیزیں موجود ہیں کہ جن کو بغیر دیکھے کے یہ مانتا ہے اور اسے ماننا پڑتا ہے۔کیا سب انسان اپنے دل جگر دماغ انتٹریاں پھیپھڑے اور تلی کو دیکھ کر مانتے ہیں یا بغیر دیکھے کے۔اگر ان چیزوں کو اس کے دکھانے کے لئے نکالا جاوے تو انسان اسی وقت مر جائے اور دیکھنے کی نوبت ہی نہ آئے۔یہ مثالیں تو میں نے اس بات کی دی ہیں کہ سب چیزیں صرف دیکھنے سے ہی معلوم نہیں ہوتیں بلکہ پانچ مختلف حواس سے ان کا علم ہوتا ہے۔اب میں بتاتا ہوں کہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کا علم بلاواسطہ ان پانچوں حواس سے بھی نہیں ہوتا بلکہ ان کے معلوم کرنے کا ذریعہ ہی اور ہے۔مثلاً عقل یا حافظہ یا ذہن ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا انکار دنیا میں کوئی بھی نہیں کرتا۔لیکن کیا کسی نے عقل کو دیکھا ہے یا سنا یا چکھا یا سونگھا یا چھوا ہے پھر کیونکر معلوم ہوا کہ عقل کوئی چیز ہے یا حافظہ کا کوئی وجود ہے پھر قوت ہی کو لے لو ہر انسان میں تھوڑی بہت قوت موجود ہے کوئی کمزور ہو یا طاقت ور مگر کچھ نہ کچھ طاقت ضرور رکھتا ہے مگر کیا قوت کو آج تک کسی نے دیکھا یا سنا یا چھوا یا چکھا ہے پھر کیونکر معلوم ہوا کہ قوت بھی کوئی چیز ہے اس بات کو ایک جاہل سے جاہل انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ ان چیزوں کو ہم نے اپنے حواس سے معلوم نہیں کیا بلکہ ان کے اثرات کو معلوم کرکے ان کا پتہ لگایا ہے۔مثلاً جب ہم نے دیکھا کہ انسان مختلف مشکلات میں گھر کر کچھ دیر غور کرتا ہے اور کوئی ایسی تدبیر نکالتا ہے جس سے وہ اپنی مشکلات دور کرلیتا ہے۔جب اس طرح مشکلات کو حل ہوتے ہوئے ہم نے دیکھا تو یقین