انوارالعلوم (جلد 1) — Page 413
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ دلائل ہستی باری تعالیٰ اس زمانہ میں عقائد و ایمانیات پر جو مادی دنیا نے اعتراضات کئے ہیں ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ انکار ذات باری ہے۔مشرک گو خدا کا شریک ان کو بناتا ہے لیکن کم سے کم خدا تعالیٰ کے وجود کا تو قائل ہے۔دہریہ بالکل ہی انکاری ہے۔موجودہ سائنس نے ہر چیز کی بنیاد مشاہدات پر رکھی ہے۔اس لئے دہریہ سوال کرتے ہیں کہ اگر کوئی خدا ہے تو ہمیں دکھائو۔ہم بغیر دیکھے کے اسے کیونکر مان لیں۔چونکہ اس وقت کی ہوا نے اکثر نوجوانوں کے دلوں میں اس پاک ذات کے نقش کو مٹا دیا ہے اور کالجوں کے سینکڑوں طالب علم اور بیرسٹر وغیرہ وجودِ باری کے منکر ہور ہے ہیں اور ان کی تعداد روز افزوں ہے اور ہزاروں آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو بظاہر قوم و ملک کے خوف سے اظہار تو نہیں کرتے لیکن فی الحقیقت اپنے دلوں میں وہ خدا پر کچھ یقین نہیں رکھتے۔اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے تو میں اس پر ایک چھوٹا سا ٹریکٹ لکھ کر شائع کروں شائد کسی سعید روح کو اس سے فائدہ پہنچ جائے۔1۔دہریوں کا پہلا سوال یہ ہے کہ اگر خدا ہمیں دکھا دو تو ہم مان لیتے ہیں۔مجھے اس سوال کے سننے کا کئی بار موقع ملا ہے لیکن ہمیشہ اس کے سننے سے حیرت ہوتی ہے۔انسان مختلف چیزوں کو مختلف حواس سے پہچانتا ہے۔کسی چیز کو دیکھ کر، کسی کو چھو کر، کسی کو سونگھ کر، کسی کو سن کر، کسی کو چکھ کر، رنگ کا علم دیکھنے سے ہوسکتا ہے، سونگھنے یا چھونے یا چکھنے سے نہیں پھر اگر کوئی شخص کہے کہ میں تو رنگ کو تب مانوں گا کہ اگر مجھے اس کی آوازسنوائو تو کیا وہ شخص بیوقوف ہے یا نہیں۔اسی طرح آواز کا علم سننے سے ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شخص کہے کہ مجھے فلاں شخص کی آواز